حسن کا مکتوبِ امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں میلے سے واپسی بڑی بری ہوتی ہے۔ لند ن سے واپسی پر میرے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔ آؤ بھگت لندن کے ائرپورٹ پر ہی شروع ہوئی۔ ’لندن جس کا نام سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘ امریکہ کےلیے برٹش ائر ویز میں سوار ہونےکےلیے جب لائن میں کھڑا ہوا تو قرعۂ میرے نام نکلا۔ امیگریشن کے بعد کسٹم کے کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے جوان نے پہلے دستی بیگ کو بدست خود ہی کھولنے اور مجھے اس سے دور رہنے کو کہا- بیگ میں سے ایک ایک چیز کھول کر وہ اپنے سامنے میز پر رکھتا گیا۔ بیگ میں رکھی ہوئی سب چھوٹی موٹی چیزيں، جنہیں میں نے اپنے بچے، بیوی اور کچھ پڑوسیوں کےلیے کوونٹ گارڈن اور 'کوونٹ گارڈن کارنر' نامی دکان سے خریدا تھا۔ گفٹ شاپ کے ساؤتھ انڈین مالک نے سوینیئرز کےچار میگنٹ مفت دیے۔ دکان میں 'شاپ لفٹرز' پر نظر رکھنے والے ِاندر بھائی عرف اندر سنگھ جی سے پنجابی میں بات کرکے مزہ آیا تھا۔ انگلش چائے جس کی فرمائش میری دو پڑوسنوں جوانا اور جاپانی سلوویکو نے کی تھی۔ لندن کے پولیس والوں کے ماڈل جو میری بیوی کی فرمائش تھے- شہزادی ڈیانا کی تصویر والی پلیٹ۔۔۔پاپاراٹزیوں یا فرانس کی وڈیو گیمز جیسی ٹریفک یا بقول بہت سے پاکستانیوں کے’کارو کاری‘ یا ’آنر کلنگ‘ کی ماری ہوئی یہ شہزادی مجھے صرف دو وجوہات کی وجہ سے پسند ہے۔ ایک تو یہ میرے بہت ہی پیارے اور خوبصورت (مرد) دوست کی ہم شکل ہے اور دوسرا اس کی دنیا میں لینڈ مائينز یا بارودی سرنگوں کے خاتمے کےلیے کوششیں۔ جب بھی کہیں افغان یا دوسرے بارودی سرنگوں سے اپنے اعضا اور جان گنواۓ ہوئے لوگ دیکھنے کو ملتے ہیں تو مجھے نہ جانے کیوں شہزادی ڈیانا یاد آجاتی ہے۔ میری نسل نے اس کی شادی بھی دیکھی اور موت بھی۔ ایک ایسی شہزادی جو اس ماڈرن اور کرخت دنیا کی فیری ٹیلز میں فٹ اور ان فٹ نظر آتی ہے۔ لال ڈبل ڈیکر بس کا ماڈل، واکرز کے بسکٹ اس ظالم نے ایک ایک پیک کی ہوئی چيز کو پھر سے ادھیڑا اور پیک کیا اور جو چیز نہ کھل سکی اسے اپنے ہاتھ میں لیے دھات اور ہتھیار کی کھوج لگانے والے آلے سے چیک کیا-
بیگ کی تلاشی کے بعد اس نے مجھ سے ساری جیبیں (پتلون، کوٹ اور قمیض کی) خالی کرواکے ان میں سے تمام چیزیں اسی میز پر رکھنے کو کہا۔ یہاں تک کہ بٹوا بھی۔ پھر اس انگریز زادے نے اپنے اس سابق رعایا زادے کو جوتے اتارنے کو کہا اور جوتوں کو بھی الٹ پلٹ اور موڑ کر دیکھا۔ میں نے سوچا یہ بھی کیا کریں کچھ مسلمان بھائيوں نے دنیا سے سلوک ہی ایسا کیا ہے۔ آج کل کی دنیا کے ايرپورٹ نہ ہوئے پير پگارو کی درگاہ ہوگئے جہاں ہر کس ونا کس کو جوتے اتارنے پڑتے ہیں۔ مگر جیسے ہی میری پرواز امریکہ میں ڈالاس ائر پورٹ پر اتری تو سینٹرلی ائير کنڈیشنڈ عمارت میں ہونے کے باوجود بھی ٹیکساس کی لگتی لو محسوس ہوئی۔ یہ میرا کاؤ بوائےکنٹری۔ شیخ ایاز نے اسی گرمی کےلیے کہا تھا جس کا آزاد اور سلیس اردو میں منظوم ترجمہ ہوگا ’جہاں لو لگے جہاں آگ تپیں سو دیس مسافر میرا رے‘۔ ’ویلکم بیک ٹو کیلیفورنیا‘ امریکی امیگریشن کے اہلکار نے میرے سفری دستاويز پر ٹھپہ لگاتے ہوئے کہا۔ لندن میں بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ دیکھنے کی تمنا رہ گئي جس میں مصدق سانول اور ان کی بیگم ڈاکٹر شہلا اور بچوں دارا اور صورت سے ملنا بھی شامل تھا۔ مظہر زیدی کے ساتھ رہنا بھی والدین کے ساتھ رہنے کے برابر ہے۔ تو ’دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگو‘ ! یہاں امریکہ میں کیا ہورہا ہے! جرنلسٹکلی سپیکنگ، آنےوالی خزاں یا نومبر میں کانگرس کے انتخابات ہورہے ہیں۔ صدر بش کی معیاد صدارت ختم ہونے میں صرف ہزار دن باقی رہ گئے ہیں- ابھی پھر کل ہی اخبار’یوایس اے ٹوڈے‘ میں لکھا تھا کہ اس سروے کے مطابق صدر بش کی ریٹنگ اب اکتیس فیصد پر آ پہنچی ہے۔ کانگرس کے انتخابات کا اندازہ لگانا ہو تو یہاں کسی بھی پیٹرول پمپ یا گیس سٹیشن پر لگی گیس کی قیمتوں سے لگایا جا سکتا ہے جس کی تصویروں کے انہوں نے اشتہارات بھی بنوائے ہوئے ہیں۔
گیس اب یہاں کیلیفورنیا میں ساڑھے تین ڈالر فی گیلن سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ پہلے جب میں پیدل تھا تو اس کا اندازہ نہیں تھا لیکن جب میری خاتون خانہ نے ایک نیک کردار خاتون سے پرانی گاڑی خریدی ہے تب ہمیں ہر صبح دال سے پہلے گیس کا بھاؤ دیکھنا پڑتا ہے۔ بہت سے امریکی کہہ رہے تھے جب گیس تین ڈالر تک جائےگی تو حکمران پارٹی کےلیے اچھا شگون نہیں۔ بلکل ایسے جیسے پاکستان میں جمعہ کو عید پڑنے کو کہتے ہیں کہ دو خطبے حمکرانوں کےلیے اچھے نہیں ہوتے لیکن امریکہ میں گرمیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھتی اور سردیوں میں گرجاتی ہیں۔ کل کم از تین بڑے امریکی اخبارات کے اداریے بھی تیل کے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تھے۔ ایک اخبار میں یہ بھی لکھا تھا کہ کانگریس کے ان انتخابات میں عراق کے بعد سب سے بڑا موضوع امیگریشن ہے۔ اب کے بار عراق جنگ سے لوٹے ہوئے دس سابق فوجی بھی کانگریس میں کھڑے ہوئے ہیں جن میں آٹھ کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے۔ ان میں عراق جنگ سے لوٹی ہوئی اب ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹیمی ڈک ورتھ بھی شامل ہے جنہوں نے جنگ میں اپنے دونوں ہاتھ گنوائے ہیں۔ مجوزہ امیگریشن قوانین کے خلاف جو گزشتہ یکم مئي کو جو’کام چھوڑو‘ ریلیاں ہوئي ہیں اس میں جہاں امریکہ میکسیکو بارڈر سے لیکر لاس اینجلس کی ویلشائير اور براڈوے ایوینیوز پرکوئی ساڑھے چھ لاکھ لوگ شریک تھے اور ان میں بہت بڑی اکثریت میکسیکن لوگوں کی تھی جو اب اس بڑے دن کو ’پریمیرو ڈی میو‘ یعنی یکم مئی کہہ رہے ہیں۔
وہ دن شاید امریکہ میں تارکین وطن محنت کشوں کے دن کے طور پر یاد رکھیں۔ اقوام متحدہ کی نئی ہیومن رائٹس کونسل نے ہیومن رائٹس واچ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر بہت سے گروپوں کی مخالفت کےباوجود پاکستان کی رکنیت قبول کرلی۔ اب پاکستان، سعودی عرب اور کیوبا جیسے ممالک بھی انسانی حقوق کے علمبردار کہلائيں گے۔ یار زندہ صحبت باقی۔ |
اسی بارے میں موساوی، جیوری اور خدا05 May, 2006 | قلم اور کالم ڈاکٹر کا قتل،امریکہ میں تشویش10 May, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||