BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 May, 2006, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر کا قتل،امریکہ میں تشویش

 چناب نگر
چناب نگر پاکستان میں قادیانیوں کا اہم مرکز ہے(فائل فوٹو)
پاکستان میں سانگھڑ میں احمدی ڈاکٹر مجیب الرحمان پاشا کے قتل پر امریکہ میں بسنے والے ان کے لواحقین اور احمدی برادری کے سرکردہ افراد نے اپنی تشویش اور ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نیوجرسی میں رہنے والے حافظ سمیع اللہ نے، جو مقتول ڈاکٹر کے خالہ زاد بھائی ہیں، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو ٹیلی فون پر بتایا کہ صوبہ سندھ کے سانگھڑ شہر میں اتوار کی شام بیالیس سالہ ڈاکٹر مجیب الرحمان اپنا کلینک بند کرکے گھر جا رہے تھے کہ سامنے والی گلی میں کچھ مسلح نقاب پوش نکلے اور انہوں نے گولیاں مار کر ڈاکٹر مجیب الرحمان کو ہلاک کر دیا۔

اپنی بات چیت میں حافظ سمیع اللہ نے کہا کہ بہت عرصے سے پاکستان میں فرقہ وارانہ نفرت کی بنیاد پر احمدی اور شیعہ ڈاکٹروں کے خلاف تشدد جاری ہے کیونکہ ڈاکٹر کیمونٹی کی خدمت کرنے والے لوگ ہیں اور بقول ان کے وہ حملہ آوروں کے لیئے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔

لاس اینجلس اور اس کے نواحی علاقے چن میں کوئی ڈیڑھ ہزار نفوس کی احمدی آبادی سے احمدیہ جماعت کے مبلغ و خطیب سید شمشاد احمد ناصر نے ٹیلی فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے اپنی بات چیت میں احمدی ڈاکٹر مجیب الرحمان شامی کے قتل کو پاکستان میں مذہبی منافرت پر مبنی و جاری تشدد کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احمدیوں کے خلاف تشدد و امتیاز کی اصل جڑ پاکستانی آئين میں احمدیوں کے خلاف وہ ترامیم ہیں جو انیس سو چوہتر میں قومی اسیمبلی میں منظور کی گئی تھیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ نوجوان ڈاکٹر مجیب الرحمان شامی کے قتل سے شمالی امریکہ میں رہنے والی احمدی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے یہ لامحالہ ایک فرقہ وارانہ قتل ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں سید شمشاد ناصر نے کہا کہ جنرل مشرف کی موجودہ حکومت بھی اپنے تمام تر دعوؤں کے باوجود پاکستان میں مذہبی منافرت، امتیاز و تشدد روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ جس کی مثالیں گزشتہ سال اکتوبر میں منڈی بہاءالدین میں آٹھ احمدیوں کے قتل اور پاسپورٹ میں مذہب کے کالم کی منسوخی کے اعلان کی واپسی ہے۔

 بہت عرصے سے پاکستان میں فرقہ وارانہ نفرت کی بنیاد پر احمدی اور شیعہ ڈاکٹروں کے خلاف تشدد جاری ہے کیونکہ ڈاکٹر کیمونٹی کی خدمت کرنے والے لوگ ہیں اور بقول ان کے وہ حملہ آوروں کے لیئے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستان میں صوبہ پنجاب کی طرح سندھ میں بھی احمدیوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کے واقعات کی رپورٹیں آتی رہی ہیں جن میں اندرون سندھ پیشہ ور احمدیوں کے خلاف تشدد اور احمدی برادری کے مرد اور عورتوں کےخلاف توہین مذہب کے کئي مقدمے زیر سماعت ہیں۔ کئي مقدموں میں احمدیوں کےخلاف پولیس و سول انتظامیہ مقامی مولویوں یا پھر مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے مبینہ دباؤ پر رپورٹیں درج کرتی ہیں۔

حافظ سمیع اللہ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ امریکہ میں احمدیوں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہوگی۔ امریکہ میں بسنے والے زیادہ تر احمدیوں کی پاکستان سے ترک وطن کی وجہ وہاں ان کے فرقے کے خلاف مبینہ امتیاز اور تشدد ہے۔ سید شمشاد احمد کے مطابق صرف کیلی فورنیا میں احمدیوں کی تعداد تین ہزار ہے جن میں سے ڈیڑھ ہزار جنوبی کیلیفورنیا میں رہتے ہیں۔

تاہم لاس اینجلس کے قریب چنو کے احمدی مبلغ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے تمام معاملات اللہ پر چھوڑ دیے ہیں اور جماعت احمدیہ کسی انتقام یا جوابی کارروائی پر ہر یقین نہیں رکھتی۔‘

اسی بارے میں
احمدیوں کے خلاف نئی مہم؟
14 October, 2003 | پاکستان
’شر پسند‘ شاعری پر مقدمہ
15 August, 2003 | صفحۂ اول
یورپ کی سب سے بڑی ’مسجد‘
03 October, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد