| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کی سب سے بڑی ’مسجد‘
جمعہ کو برطانیہ میں احمدیوں کی ایک عبادت گاہ کا افتتاح ہوا ہے جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مغربی یورپ میں ان کی سب سے بڑی مسجد ہے‘۔ لندن کے جنوب مغرب کے علاقے مورڈن میں احمدی فرقے نے بیت الفتوح مسجد کے نام سے ایک عبادت گاہ بنائی ہے لیکن اس کو مسجد کہلانے پر برطانیہ کے مسلم کونسل کے جنرل سیکریٹری نے اعتراض کیا ہے۔ مسلم کونسل کے جنرل سیکریٹری اقبال ساکرانی کا کہنا ہے کہ احمدیوں کی اس عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہنا چاہیے کیونکہ یہ غلط بیانی کے مترادف ہے۔ ’لوگوں کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب پر جس طرح سے چاہیں عمل کریں، لیکن جو چیز غلط ہے وہ یہ ہے کہ آپ غلط بیانی کر رہے ہیں، آپ اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہے ہیں جبکہ آپ مسلمان ہیں ہی نہیں۔ یہ غلط ہے اور یہ اشتعال انگیز حرکت ہے جو کہ لوگوں کو برداشت نہیں ہو سکتی۔‘
احمدی برادری کا کہنا ہے کہ اس عبادت گاہ کی تعمیر میں پچاس لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں اور یہ دو سال میں مکمل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ مغربی یورپ کی ’سب سے بڑی مسجد ہے۔‘ مسجد کا ایک خوبصورت گنبد ہے جس کا قطر 15.5 میٹر ہے۔ اس کے اوپر سٹیل کی ایک چادر ہے اور اندر خوبصورت انداز میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔ عبادت گاہ کے بڑے ہال میں چھ ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ پوری عمارت میں تیرہ ہزار افراد عبادت کر سکتے ہیں۔ اس عمارت میں ٹی وی سٹوڈیوز، دفاتر اور مکاتب شامل کئے گئے ہیں اور یہاں سے عبادت اور مذہبی کارروائیوں کو سٹیلائٹ کے ذریعے پوری دنیا میں براڈ کاسٹ کیا جا سکتا ہے۔ احمدیوں کے مطابق پوری دنیا میں احمدی فرقے کے ماننے والوں کی تعداد دو کروڑ کے قریب ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||