| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں احمدیوں پر پابندی
جمعہ سے بنگلہ دیش میں احمدی برادری پر پابندی عائد کردی گئی ہے کہ وہ اسلام سے متعلق کسی طرح کا تحریری مواد نہ تو شائع کرسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ یہ اقدام بنگلہ دیش میں ایک سخت گیر اسلامی تنظیم کے ان مطالبات پر کیا گیا ہے جن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اس تنظیم کا حکومت کے ساتھ مضبوط تعلق ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے سے کم کسی بھی اقدام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ’احمدیہ مسلم جماعت بنگلہ دیش‘ نامی اس تنظیم پر، جوکہ بنگلہ دیش میں احمدیوں کی نمائندہ تنظیم ہے، یہ پابندی سخت گیر تنظیموں کی اس ڈیڈلائن کے ختم ہونے پر عائد کی گئی ہے جس کے تحت وہ حکومت پر زور دے رہے تھے کہ اس تاریخ تک قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ جمعرات کی شام مذہبی امور کی حکومتی کمیٹی نے دیر گئے تک ایک اجلاس کے بعد ایک اعلان کے ذریعے احمدیہ جماعت کی جانب سے اسلام سے متعلق مطبوعات کی فروخت، بانٹنے یا ان کتابوں اور کتابچوں کو محفوظ کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے ’یہ پابندی ان مطبوعات کی اشاعت کے پس منظر میں عائد کی گئی ہے جن کے متنازعہ مواد سے مسلمانوں کی اکثریت کے جذباب مجروح ہوتے ہیں‘۔ کئی افراد کا خیال ہے کہ یہ پابندی بنگلہ دیش میں بسنے والے ایک لاکھ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ ’احمدیہ مسلم جماعت بنگلہ دیش‘ نے اس پابندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تمام برادری کو دھچکا لگا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||