’اسامہ زندہ ہیں تو افغانستان میں ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفترِخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن اگر زندہ ہیں تو اس بات کے امکانات ہیں کہ وہ افغانستان میں ہی کہیں موجود ہیں۔ انہوں نے افغانستان کے اعلی حکام کی اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر شدت پسندوں کی آمد و رفت روکنے کے لیئے نیم دلانہ اقدامات کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدت پسندوں کے معاملے پر چل رہی الزام تراشی کے بارے میں آج ہفتہ وار پریس بریفنگ میں افغان حکام کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیئے اور کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں موجود اتحادی افواج اور افغانی فوج سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور دنیا بھر میں کسی بھی ملک سے زیادہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیم دلانہ کردار ادا کرنے کا الزام بے ہودہ ہے اور اگر کوئی نیم دلانہ اقدامات کر رہا ہے تو وہ سرحد کے دوسری طرف ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو پاکستان پر الزام تراشی کے بجائے اپنے ملک کے حالات کو ٹھیک کرنا چاہئے اور اگر ان کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے پاکستان حکومت کے سامنے لایا جائے نہ کے ذرائع ابلاغ کے ذریعے مضحکہ خیز الزامات عائد کئے جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے اور اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری سے باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے بات چیت کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے درمیان ایکو سمٹ کے درمیان طے پایا تھا کہ دونوں ممالک کے وزرا خارجہ کے درمیان زیادہ بات چیت ہونی چاہئے۔ ترجمان نے کہا کہ اسامہ بن لادن کہاں ہیں اس بارے میں افغانستان کے وزیر خارجہ نے قیاس آرائیاں کی ہیں لہذا وہ بھی کہ سکتی ہیں کہ اگر اسامہ بن لادن زندہ ہیں تو شائد افغانستان میں ہی ہوں۔ ملک کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جوہری نیٹ ورک کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جس کے نتائج سے آئی اے ای اے اور دیگر ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا ڈاکٹر خان کے نیٹ ورک نے شام کو بھی جوہری معلومات دیں ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر شام، ایران،لیبیا اور دیگر ممالک جن کا نام اس معاملے پر سامنے آیا اس کے بارے میں تحقیقات مکمل کر کے بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور اگر کوئی نئی بات یا ثبوت سامنے آتا ہے تو پاکستان اس پر بھی تحقیقات کر سکتا ہے۔ تسنیم اسلم نے بریفنگ کے آغاز میں ان قیاس آراییوں کی تردید کی کہ صدر جنرل پرویز مشرف اگلے ماہ امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ | اسی بارے میں باڑ لگانے پر غور کر سکتے ہیں: پاکستان06 March, 2006 | پاکستان ’ہمیں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا‘14 July, 2005 | پاکستان کوئی کیمپ نہیں ہے: دفترِ خارجہ11 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||