طالبان کے کیمپ بند کریں: کرزئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغانستان کی سرحدوں کے باہر قائم شدت پسندوں کے تربیتی کیمپ اور شدت پسندوں کی مالی امداد بند نہ کی گئی تو افغانستان میں پایا جانا والا عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ شدت پسندوں کے کیمپ کہاں قائم ہیں اور کون شدت پسندوں کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کی حکومت پاکستان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر بھی طالبان سے رابطے میں ہیں۔ مبصرین کے مطابق جنوبی افغانستان میں طالبان اتحادی فوج کی کارروائیوں میں شدید جانی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ امریکی حملے کے بعد کابل میں طالبان کی حکومت کے بعد سے اب تک حالیہ دنوں میں افغانستان میں سب سے زیادہ خونریزی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں کابل میں اتحادی افواج پر حملہ26 June, 2006 | آس پاس لڑائی ادھوری نہیں چھوڑیں گے: امریکہ28 June, 2006 | آس پاس اب ’ملا عمر‘ کا ٹیپ جاری25 June, 2006 | آس پاس ایک فوجی، بارہ طالبان ہلاک29 June, 2006 | آس پاس افغانستان میں ’65 طالبان ہلاک‘24 June, 2006 | آس پاس ’طالبان کے بارے میں اندازے غلط‘29 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||