 | | | حالیہ مہینوں میں طالبان مزاحمت نے زور پکڑ لی ہے |
افغانستان میں نیٹو ممالک کی افواج کے نئے کمانڈر کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبوں میں طالبان کے پنپنے کے امکانات کا بین الاقوامی برادری نے صحیح اندازہ نہیں لگایا تھا۔ برطانوی فوج سے تعلق رکھنے والے نیٹو کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈیوِڈ رِچرڈز نے بی بی سی کو بتایا کہ عراق میں جاری جنگ نے توجہ افغانستان سے ہٹا دی تھی جس کے نتیجے میں وہاں سکیورٹی کا خلاء پیدا ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے زوال کے بعد جنوبی افغانستان میں اگر صحیح تعداد میں بین الاقوامی فوج تعینات کی گئی ہوتی تو طالبان اس وقت سرگرم نہیں ہوتے۔ بی بی سی کی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے نیٹو کے کمانڈر نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ غور سے سنیں کہ افغانستان کے عوام، بالخصوص صدر حامد کرزئی، اپنے ملک کے بارے میں کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک جنوبی افغانستان میں حالات پر قابو پانے کے لیے مزید فوجی تعینات کریں گے اور طالبان مخالف کارروائیوں میں شہریوں کی ہلاکت روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ جنرل رِچرڈز نے جنوبی افغانستان کے دیہات میں بسنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ ہو طالبان کو پناہ دینے کی کوشش نہ کریں۔ |