لڑائی ادھوری نہیں چھوڑیں گے: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے افغانستان میں اپنے دورے کے دوران اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کو ادھورا نہیں چھوڑے گا۔ کابل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ ، پاکستان اور افغانستان ’سفاک‘ اور ’ڈٹے ہوئے‘ دشمن کا خاتمہ کریں گے۔ کونڈولیزا رائس نے افغانستان کا دورہ ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب افغانستان میں حالیہ مہینوں میں طالبان اور القاعدہ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشہ ہفتے حامد کرزئی نے افغانستان میں موجود نیٹو اور امریکی فوجیوں کو افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ افغانستان کے دورے سے قبل پاکستان میں کونڈولیزا رائس نے صدر مشرف سے ملاقات کی اور طالبان کے خلاف کارروائیوں میں افغانستان کے ساتھ مزید تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ گزشتہ ماہ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے سب سے زیادہ خونی ہفتے ثابت ہوا اور گزشتہ منگل کو جنوبی افغانستان میں طالبان کی کارروائی میں دو برطانوی فوج ہلاک ہو گئے۔ گزشتہ سال افغانستان میں تیس غیر ملکی فوج ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر امریکی فوجی تھے۔ گزشتہ ہفتے حامد کرزئی کے بیان سے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ لڑائی میں افغان شہریوں کی ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔ حامد کرزئی نے کہا کہ وہ ملک کی اقتصادی ترقی اور اداروں کی بحالی پر مزید توجہ دیئے جانے کے خواہاں ہیں۔ حامد کرزئی کی اس تجویز پر کہ دور دراز گاؤں کے لوگوں کو طالبان اور القاعدہ کی کارروائیوں سے بچاؤ کے لیے مسلح کیا جانا چاہیے اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں پوست کی کاشت کو روکنے کے لیئے کی جانے والی کوششیں ملک میں لاقانونیت سے بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ | اسی بارے میں افغان سرحد پر دس ہزار مزید فوجی27 June, 2006 | پاکستان سیکرٹری رائس پاکستان دورے پر27 June, 2006 | پاکستان کابل میں اتحادی افواج پر حملہ26 June, 2006 | آس پاس پوست: یورپ کی مانگ، افغانستان کی پیداوار26 June, 2006 | آس پاس افغانستان میں ’65 طالبان ہلاک‘24 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||