افغان سرحد پر دس ہزار مزید فوجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مزید موثر بنانے کے لیئے دس ہزار مزید فوجی افغانستان کے ساتھ سرحد پر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس کے ہمراہ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ پاکستان کے اسی ہزار فوجی پہلے ہی افغانستان کی سرحد پر تعینات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے اس سے قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی جس میں سرکاری ٹی وی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ صدر مشرف سے ملاقات کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ہدایات جاری کی ہیں کہ افغاستان سے ملحقہ سرحد پر مزید دس ہزار فوجی تعینات کیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اوراب تک پاکستان کے ساڑھے چھ سو سے زائد فوجی اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے موضوع پر نہایت تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کو پاکستان پر اعتماد ہے اور امریکہ پاکستان اور افغاستان کو اپنا دوست سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مل کر القاعدہ اور طالبان کے خلاف ایک حکمت عملی بنائیں جس سے القاعدہ اور طالبان کے ساتھ مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغاستان نے اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے پاکستان کے صدر کے ساتھ جمہوریت پر بھی بات کی۔ اس سوال کے جواب میں کہ آیا صدر مشرف کے وردی نہ اتارنے کی صورت میں کیا وہ یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہے تو انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جارج بش کے دورۂ پاکستان کے دوران صدر مشرف نے خود انتخابات کو آزادانہ بنانے سے متعلق اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ پاکستان آئندہ انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لیئے ایسے اقدامات کرے گا جو الیکشن کے دن تک ہی محدود نہیں ہوں گے بلکہ الیکشن تک ایسی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی جس سے یہ انتخابات منصفانہ اور آزادانہ نظر آئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر مشرف سے گفتگو میں انہوں نے بین الاقوامی برادری کی پاکستان کے انتخابات میں گہری دلچسپی سے بھی صدر کو آگاہ کیا۔ کونڈو لیزا رائس کے مطابق پاکستان روشن خیالی اور اعتدال پسندیت کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کی شراکت داری اور تعلق بہت گہرا ہے جو آنے والے وقت میں بھی جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان توانائی کے بارے میں بات چیت جاری ہے اور امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا خیال رکھے گا۔ | اسی بارے میں ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان قومی مفادات کو ترجیح: قصوری 19 May, 2006 | پاکستان ’مشرف کے مسائل کا احساس ہے‘20 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||