BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 09:55 GMT 14:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی مفادات کو ترجیح: قصوری

اسلام آباد میں جارج بش کے ساتھ صدر پرویز مشرف اور خورشید احمد قصوری
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ امریکہ سے وہ اپنے تعلقات کی قدر کرتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کے قومی مفادات کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

جمعہ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر امریکہ اور پاکستان کے موقف میں اختلافات کا ذکر کیے بنا اپنا موقف کھل کر بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق ہے اور ان کا ملک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا مخالف ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے موجودہ جوہری بحران سے نکلنے کے لیے دنیا کے پاس بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ عالمی جوہری ایجنسی کے ذریعے ’آن سائیٹ انسپیکشن رجیم‘ کا طریقۂ کار وضع کرے۔ ان کے مطابق اس طریقے سے عالمی جوہری ایجنسی یہ یقینی بناسکتی ہے کہ ایران مقررہ حد نہیں پھلانگ سکتا۔

ایران پر پاکستانی موقف
 پاکستان سمجھتا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق ہے اور پاکستان ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا مخالف ہے۔
وزیر خارجہ قصوری
انہوں نے حزب مخالف کے اراکین رضا ربانی، اسحٰق ڈار اور دیگر کی جانب سے بیرونی دباؤ کی وجہ سے کشمیر، افغانستان، ایران، عراق اور دیگر عالمی اور علاقائی معاملات کے بارے میں یکسر اور اچانک خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کے متعلق الزامات کی سختی سے تردید کی اور انہیں مسترد کردیا۔

سینیٹ میں جمعرات کے روز قوائد معطل کرکے بحث کی شروع کی گئی تھی جو جمعہ کو ختم ہوئی۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ’بولڈ اینڈ بینلنسڈ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت ہے۔

ایوان کی خارجہ امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا کہ افغانستان میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری امریکہ کی ناقص پالیسیاں ہیں۔

ان کے مطابق اس بات کی تائید خود امریکی تجزیہ کار بھی کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغان پالیسی میں کافی خلیج ہے جسے پر کرناہے۔ مشاہد حسین نے امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بھارت کو علاقائی پولیس کا کردار سونپ رہا ہے جوکہ ان کے مطابق غلط ہے۔

خورشید محمود قصوری نے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر، سیاچین اور سرکریک کے مسائل حل ہونے چاہیے۔ لیکن انہوں نے کہا اس بارے میں سست رفتاری سے پیش رفت ہورہی جوکہ ان کی نظر میں کچھ نہ ہونے سے پھر بھی بہتر ہے۔

قدیر خان اور امریکہ
 جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ ہم عالمی جوہری ایجنسی کو معلومات تو دے سکتے ہیں لیکن اس بارے میں ہماری کچھ حدود مقرر ہیں۔
خورشید محمود قصوری
انہوں نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ جوہری مواد اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں ملوث سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم عالمی جوہری ایجنسی کو معلومات تو دے سکتے ہیں لیکن اس بارے میں ہماری کچھ حدود مقرر ہیں۔‘

انہوں نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں پاکستان پر دراندازی کرنے اور طالبان شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کہا کہ انہیں اس بیان پر افسوس ہوا ہے۔

وزیر خارجہ نے اپنے محتاط انداز میں ظاہرکردہ رد عمل میں کہا کہ ابھی تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ جو باتیں افغان صدر سے منسوب اخبارات میں شائع ہوئی ہیں وہ انہوں نے کی بھی ہیں کہ نہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر ان سے منسوب باتیں درست ہیں تو یہ افسوس ناک بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک میں بہتر تعلقات کے نتیجے میں ہی دو طرفہ تجارت بڑھی ہے۔ ان کے مطابق چار برس قبل دو طرفہ تجارت کو محض تئیس ملین ڈالر تھی، وہ اب ڈیڑھ ارب ڈالر ہوچکی ہے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کو میڈیا کے بجائے سفارتی ذرائع سے بات کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد