BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات وقت پر، شفاف ہوں: بش

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جارج بش
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کرنے اور اگلے برس ہونے والے عام انتخابات کے وقت پر منقعد کرنے اور ان کو شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔

اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران صدر بش نے کہا کہ وہ پاکستانی صدر کی جانب سے جہموریت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی چاہتے ہیں کہ اگلے برس ہونے والے الیکشن شفاف ہوں۔ امریکی صدرنے کہا کہ صدر پرویز مشرف سمجھتے ہیں کہ ان انتخابات کا شفاف ہونا کس قدر ضروری ہے۔

صدر بش سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت حقیقی جمہوریت کے فروغ میں سنجیدہ نہیں ہے اور امریکہ بھی صدر مشرف پر اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال رہا، تو امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ بات چیت میں کافی وقت جمہوریت کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔

صدر بش کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں جمہوریت پاکستان کا مستقبل ہے اور ہم جمہوریت کا اعادہ کرتے ہیں۔ میں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ سن دو ہزار سات میں الیکشن ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مشرف اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آزادی، جمہوریت اور بہتر تعلیم نہایت ضروری ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف، جنہوں نے 1999 میں ایک جمہوری حکومت کو برطرف کر کے فوجی حکومت قائم کی، پریس کانفرنس کے دوران اپنے اقتدار کے بارے میں دفاعی رویہ اختیار کیا۔

جمہوریت پاکستان کا مستقبل
 میرے خیال میں جمہوریت پاکستان کا مستقبل ہے اور ہم جمہوریت کا اعادہ کرتے ہیں۔ میں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ 2007 میں الیکشن ہوں۔
امریکی صدر جارج بش
پاکستان میں گزشتہ سات برسوں میں جنرل مشرف نے اقتدار میں رہنے کے لیے پہلے سپریم کورٹ سے تین سال کی مدت حاصل کی اور اس کے بعد ایک متنازعہ صدارتی ریفرینڈم کے ذریعے خود کو 2007 تک صدر منتخب کروا لیا۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں جنرل مشرف پر اپنے اقتدار میں توسیع کے لیے تنقیدی کرتی رہی ہیں۔

صدر بش کے ساتھ پریس کانفرنس میں جنرل مشرف نے کہا کہ بدقسمتی سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کو پنپنے نہیں دے رہے مگر وہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کیا کیا ہے۔

صدر مشرف نے کہا: ’میرے خیال میں جمہوریت کا پہلا جزو لوگوں کو با اختیار بنانا ہے۔ ہم نے انہیں بااختیار بنایا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی با اختیار نہیں تھے۔ ہم نے مقامی سطح پر لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ادارے بنائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جمہوریت کا مطلب خواتین کو با اختیار بنانا بھی ہے اور ہم نے پہلی دفعہ پاکستان کی خواتین کو با اختیار بنایا ہے اور ان کو سیاسی عمل میں اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیا ہے۔‘

پاکستانی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقلیتوں کو بھی بااختیار بنایا ہےاور اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کو بھی بااختیار بنایا ہے۔ صدر مشرف نے کہا انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی روح کو متعرف کروایا ہے۔

دونوں رہنماؤں کی یہ مشترکہ پریس کانفرنس تھی
تاہم صدر مشرف نے کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ ان کی وردی کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ’مجھے پتہ ہے کہ میری وردی ایک ایشو ہے جس کا حل ضروری ہے۔ میں اس بارے میں آئینی رائے کے تحت عمل کروں گا۔ ابھی بھی میں آئینی فیصلے کے تحت 2007 تک وردی رکھ سکتا ہوں۔‘ انہوں نے کہا: ’مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں اپنی وردی میں رہوں۔ تاہم 2007 کے بعد کیا ہوگا اس کو آئین کے تحت حل کیا جائے گا۔ میں آئین کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔‘

اس لمبی تمہید کے بعد صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے اس سوال کا نہایت طویل جواب دیا ہے جس پر امریکی صدر نے ان کی تائید کی کہ یہ خاصا طویل جواب تھا۔

یہ مشترکہ کانفرنس صدر جارج بش کے پاکستان دورے پر اہم تھی۔ کانفرنس کے دوران صدر بش نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور امریکہ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو شکست دیں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کراچی میں جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اسامہ بن لادن کو تلاش کر کے اس کو سزا دی جائے گی۔

پاکستان میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ صدر بش کے دورے سے پاکستان کو کچھ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ سویلین جوہری تعاون پر معذوری ظاہر کی تاہم کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا خیال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے ساتھ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا مسئلہ اٹھایا ہے اور امریکہ کے توانائی کے سیکریٹری سام بالڈون جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں توانائی کی ضروریات پر بات ہوگی۔

مسئلہ کشمیر پر صدر بش کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے لیے پاکستان اور بھارت کے رہنما آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں، فضا بدلی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے کیے گئے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہنے چاہیئں۔

صدر بش، پاک دورہ
بش دورے سے پاکستانی توقعات کو جھٹکا: تجزیہ
جنرل پرویز مشرفیہ مہنگا سودا ہے؟
صدر مشرف کو امریکی قربت مہنگی پڑ سکتی ہے
جارج بُش اور منموہن سنگھماہرین کی تشویش
’بھارت کا جوہری معاہدہ پاکستان کے لیے دھچکہ‘
بش بش کا خفیہ پروگرام
کہاں جاناہے، کس سے ملناہے، سب کچھ خفیہ
امریکی قونصلیٹ
چار سالوں میں امریکی قونصلیٹ پر تیسرا حملہ
اسی بارے میں
جارج بش پاکستان پہنچ گئے
03 March, 2006 | پاکستان
بش کی آمد پر سکیورٹی سخت
03 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد