انتخابات وقت پر، شفاف ہوں: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کرنے اور اگلے برس ہونے والے عام انتخابات کے وقت پر منقعد کرنے اور ان کو شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس کے دوران صدر بش نے کہا کہ وہ پاکستانی صدر کی جانب سے جہموریت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی چاہتے ہیں کہ اگلے برس ہونے والے الیکشن شفاف ہوں۔ امریکی صدرنے کہا کہ صدر پرویز مشرف سمجھتے ہیں کہ ان انتخابات کا شفاف ہونا کس قدر ضروری ہے۔ صدر بش سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت حقیقی جمہوریت کے فروغ میں سنجیدہ نہیں ہے اور امریکہ بھی صدر مشرف پر اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال رہا، تو امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کے ساتھ بات چیت میں کافی وقت جمہوریت کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ صدر بش کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں جمہوریت پاکستان کا مستقبل ہے اور ہم جمہوریت کا اعادہ کرتے ہیں۔ میں نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ سن دو ہزار سات میں الیکشن ہوں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مشرف اس بات کو سمجھتے ہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے آزادی، جمہوریت اور بہتر تعلیم نہایت ضروری ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف، جنہوں نے 1999 میں ایک جمہوری حکومت کو برطرف کر کے فوجی حکومت قائم کی، پریس کانفرنس کے دوران اپنے اقتدار کے بارے میں دفاعی رویہ اختیار کیا۔
صدر بش کے ساتھ پریس کانفرنس میں جنرل مشرف نے کہا کہ بدقسمتی سے ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کو پنپنے نہیں دے رہے مگر وہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کیا کیا ہے۔ صدر مشرف نے کہا: ’میرے خیال میں جمہوریت کا پہلا جزو لوگوں کو با اختیار بنانا ہے۔ ہم نے انہیں بااختیار بنایا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی با اختیار نہیں تھے۔ ہم نے مقامی سطح پر لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ادارے بنائے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’جمہوریت کا مطلب خواتین کو با اختیار بنانا بھی ہے اور ہم نے پہلی دفعہ پاکستان کی خواتین کو با اختیار بنایا ہے اور ان کو سیاسی عمل میں اپنی آواز بلند کرنے کا موقع دیا ہے۔‘ پاکستانی صدر نے کہا کہ انہوں نے اقلیتوں کو بھی بااختیار بنایا ہےاور اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کو بھی بااختیار بنایا ہے۔ صدر مشرف نے کہا انہوں نے پاکستان میں جمہوریت کی روح کو متعرف کروایا ہے۔
اس لمبی تمہید کے بعد صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے اس سوال کا نہایت طویل جواب دیا ہے جس پر امریکی صدر نے ان کی تائید کی کہ یہ خاصا طویل جواب تھا۔ یہ مشترکہ کانفرنس صدر جارج بش کے پاکستان دورے پر اہم تھی۔ کانفرنس کے دوران صدر بش نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور امریکہ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو شکست دیں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ کراچی میں جمعرات کو ہونے والے بم دھماکے نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اسامہ بن لادن کو تلاش کر کے اس کو سزا دی جائے گی۔ پاکستان میں یہ سمجھا جارہا ہے کہ صدر بش کے دورے سے پاکستان کو کچھ نہیں ملا ہے۔ انہوں نے بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ سویلین جوہری تعاون پر معذوری ظاہر کی تاہم کہا کہ امریکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا خیال کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے ان کے ساتھ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا مسئلہ اٹھایا ہے اور امریکہ کے توانائی کے سیکریٹری سام بالڈون جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں توانائی کی ضروریات پر بات ہوگی۔ مسئلہ کشمیر پر صدر بش کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کے لیے پاکستان اور بھارت کے رہنما آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں، فضا بدلی ہے اور اس مسئلے کے حل کے لیے کیے گئے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رہنے چاہیئں۔ |
اسی بارے میں ’جمہوری پاکستان دنیا کے مفاد میں‘03 March, 2006 | انڈیا انڈیا، امریکہ دنیا بدل سکتے ہیں: بش03 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کا خیر مقدم03 March, 2006 | انڈیا جارج بش پاکستان پہنچ گئے03 March, 2006 | پاکستان بش کی آمد پر سکیورٹی سخت03 March, 2006 | پاکستان بش دورے سے توقعات کو جھٹکا04 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||