BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 May, 2006, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کا ’طالبان جوا‘

دسمبر 2001 میں تورا بورا پر امریکی فضائی حملہ
طالبان اور القاعدہ تورا بورا حملوں سے بھاگ کر وزیرستان میں داخل ہو گئے
پاکستان کے صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف جنگ تقریباً جیتی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں زیادہ تشویش وزیرستان میں طالبان کی طرز کے شدت پسندوں کے دوبارہ ابھرنے کی ہے۔

تاہم اس تنازعے کو قریب سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں تفریق کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان اور القاعدہ آپس میں ایسے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں کہ ان میں سے ایک پر حملہ دوسرے کے ساتھ خود بخود جڑ جاتا ہے۔

لیکن پاکستان کے لیئے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں دونوں کے درمیان تفریق کرنا اس کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ قبائلی علاقے کے بارے میں وسیع معلومات رکھنے والے فوج کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’جب امریکہ نے طالبان حکومت کو افغانستان میں بمباری کر کے ختم کیا تو اس وقت ہمارے لیئے سکیورٹی معاملات کی بڑی واضح حدود متعین تھیں۔ ہم طالبان کو بتاتے رہے کہ وہ ملحقہ علاقے میں سیاسی وجود رکھ سکتے ہیں لیکن القاعدہ کے لیئے ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔

شاید یہ اسی سوچ کا نتیجہ تھا کہ امریکی بمباری کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجو دسمبر دو ہزار ایک میں وزیرستان آ گئے۔ اس وقت پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے سرحد سیل کر دی ہے تاکہ تورا بورا سے شدت پسند وزیرستان میں داخل نہ ہو سکیں۔

زبیر محسود
پروفیسر زبیر محسود

لیکن مقامی لوگ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ پشاور یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر زبیر محسود کہتے ہیں کہ ’ان دنوں وزیرستان کے بڑے شہروں وانا اور میران شاہ میں سینکڑوں کی تعداد میں طالبان اور غیر ملکی جنگجو حماموں کے باہر قطاریں بنائے نظر آتے تھے‘۔

پروفیسر محسود ان دنوں وزیرستان کے مسئلے اور اس کے بین الاقوامی انسانی قوانین کے ساتھ تعلق پر تحقیقاتی مقالہ تیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ گرد سے اٹے ہوئے ہوتے تھے، زخمی ہوتے تھے اور باقی بھوک سے مرنے کے قریب ہوتے تھے۔ پھر وہ اپنے آپ کو صاف کر کے مقامی لوگوں کی مدد کا انتظام کرتے اور دیہی علاقوں میں غائب ہو جاتے تھے‘۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان میں افغانی، وسطی ایشیائی اور عرب باشندے شامل تھے۔

 سینکڑوں جنگجو مقامی لوگوں کی مدد کا انتظام کرتے اور دیہی علاقوں میں غائب ہو جاتے تھے
پروفیسر زبیر محسود

وزیرستان کی معیشت ہمیشہ سے پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والی سمگلنگ کے راستوں پر منحصر رہی ہے۔ وانا میں ایک قبائلی باشندے کا کہناہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں سے پہلے غیر ملکی جنگجوؤں کی نقل و حمل ’قابو میں تھی اور پاکستانی فوج کی نگرانی میں تھی۔ لیکن تورا بورا کی بمباری کے بعد جگہ یہ سب کے لیئے کھل گئی‘۔

انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ ’بہت سے بیروزگار مقامی لوگ جن میں سے بہت سوں کا کبھی شدت پسندوں سے کوئی تعلق نہ رہا تھا غیر ملکی شدت پسندوں کو پناہ دینے کے پرکشش کاروبار سے آگاہ ہوئے‘۔ یہاں کی کریانہ کی دوکانوں پر یکایک ٹِن فوڈ ملنے لگا جو قبائلیوں نے کبھی دیکھا تک نہ تھا۔

ان واقعات کی پاکستانی فوج کی جانب سے تردید نہیں کی جاتی لیکن ان کا تقظہ نظر مختلف ہے۔ ایک فوجی افسر جنہوں نے قبائلی علاقوں میں کافی سال کام کیا ہے کہتے ہیں ’وزیرستان کے علاقے میں پاکستان کی سرحد کو مکمل طور پر سیل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیئے جب تورا بورا کی بمباری نے جنگجوؤں کو اس علاقے سے دھکیلا تو سمگلروں اور مقامی جرائم پیشہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے اس موقعے سے مالی فائدہ اٹھا کر ان لوگوں کو پناہ دی‘۔

وزیرستان میں فوجی
پاکستان نے قبائلی علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں فوجی تعینات کر رکھے ہیں

انہوں نے مزید بتایا کہ ’’دس ڈالر مالیت کا چینی کا بیس کلو کا تھیلا ان دنوں عرب جنگجوؤں کو سو ڈالر میں بیچا جا رہا تھا۔ یہ روس کی جنگ کے دوران پائے جانے والے جذبہ مہمان نوازی سے بہت مختلف چیز تھی جب جنگجوؤں کو مہمان بنا کر رکھنا معزز قبائلیوں کے لیئے باعث فخر تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار کے عرصے میں جب پاکستانی فوج کا زیادہ تر کام خفیہ معلومات اکٹھا کرنا تھا، ان لوگوں نے علاقے میں قدم جما لیئے اور قبائلی علاقے کے ان ’کاروباری افراد‘ نے اتنا نام اور پیسہ بنایا جو ان کے پاس پہلے کبھی نہیں تھا۔

فوج کے افسر نے بتایا کہ یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سےگزشتہ سال اکتوبر میں طالبان دوبارہ مضبوط ہو کر اٹھے۔ ان حالات میں انہیں موقع مل گیا کہ وہ لوگوں کے غصے اور لاقانونیت کا فائدہ اٹھائیں وار اس طرح یہ لوگ نوجوانوں کے گروہ اکٹھے کر کے طالبان رہنما بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ لوگ امریکہ مخالف جذبات استعمال کر کے عربوں سے پیسہ بٹور رہے ہیں۔

 القاعدہ اور طالبان یا اچھے اور برے طالبان کے درمیان تفریق کرنے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے داڑھی میں سے سفید بال نکالنا
مقامی قبائلی

اس صورتحال میں حکومت پاکستان کے پاس دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ اس علاقے میں سب لوگوں کے خلاف جنگ شروع کر دی جاتی اور دوسرا یہ کہ مقامی لوگوں کو غیر ملکیوں سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی جاتی۔ حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

پاکستان کی سکیورٹی انتظامیہ میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے واپس چلے جانے کے بعد یہ لوگ دوبارہ افغانستان میں طاقتور ہو جائیں گے۔ اس لیئے ان کا یہ نظریہ ہے کہ پاکستان کو ان کے ساتھ تعلقات اچھے رکھنے چاہئیں تاکہ پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ رہے۔

اس طرح کی پالیسی کے مضمرات کو مقامی قبائلیوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ اس ضن میں ہر شخص کا علیحدہ طریقہ اظہار ہے۔ وانا میں ایک مقامی قبائلی کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ اور طالبان یا اچھے اور برے طالبان کے درمیان تفریق کرنے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے داڑھی میں سے سفید بال نکالنا۔ آپ جتنی دیر بھی ایسا کر لیں، آخر کار سفید بال ہی جیتیں گے‘۔

لعل خانوانا ایک ویرانہ
وزیرستان میں اب کوئی بولنے کو تیار نہیں ہے
طالبانطالبان اور القاعدہ
تفریق کی پاکستانی پالیسی: عامر احمد خان
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
وزیرستان وزیرستان کا سچ
سرکار، قبائلی ملک اور ملا کا محتاج میڈیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد