سیکرٹری رائس پاکستان دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ دہشت گردی مخالف مہم میں امریکہ کو پاکستان اور افغانستان کے ساتھ مل کر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان جاتے ہوئے راستے میں انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیئے قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب افغانستان میں طالبان اور امریکی فوج کے مابین لڑائی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ منگل کو صدر پرویز مشرف سے ملاقات کریں گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سکاٹ لینڈ میں ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بھرپور تعاون حاصل رہا ہے‘۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں جس چیز پر ہمیں خصوصی توجہ دینا ہے وہ تینوں فریقوں کا آپس میں تعاون ہے۔ ہم نے پاکستان اور افغانستان کی اس مسئلے پر اکٹھے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور میں اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف سے بات کروں گی کہ ہم ان مسائل سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں‘۔ طالبان کی جانب سے مزاحمت کے اضافے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ہم طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو ملک کے نازک حصوں میں امن تباہ کر رہی ہے‘۔ اس موقع پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ’پاکستان نے اس میں بہت سخت محنت کی ہے اور اس کوشش میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد (پر جاری طالبان مزاحمت) سے نمٹنا بھی شامل ہے جو ایک عرصہ سے ایسا علاقہ رہا ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے‘۔ | اسی بارے میں ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان قومی مفادات کو ترجیح: قصوری 19 May, 2006 | پاکستان ’مشرف کے مسائل کا احساس ہے‘20 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||