کونڈولیزا رائس مشرف ملاقات آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِخارجہ کونڈلیزا رائس منگل کے روزاسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کررہی ہیں۔ پیر کے روز امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے بتایا کہ اپنے دورے میں کونڈلیزا رائس جنرل مشرف کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی مہم میں پاکستان کے کردار کا احاطہ کریں گی۔ توقع ہے کہ اس موقع پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی طرف سے حالیہ ہفتوں میں پاکستان پرنکتہ چینی بھی بات چیت ہو گی۔ امریکی حکام کے مطابق وزیرِ خارجہ پاکستانی قیادت کو یہ باور کرانے کی بھی کوشش کریں گی کہ بھارت امریکہ جوہری سمجھوتے کے باوجود، امریکہ اب بھی پاکستان کو اپنا اہم اتحادی تصور کرتا ہے اور اس کے تعاون کی قدر کرتا ہے۔ اس سال مارچ میں صدر بش کے دورہء جنوبی ایشیا کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں کی گرمجوشی جاتی رہی ہے ۔ پاکستانی حلقے جوہری ٹیکنالوجی، اقتصادی تعاون اور عالمی سفارتکاری میں امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی قربتوں کو بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔ اس عرصے میں صدر مشرف کا چین کی طرف جھکاؤ بڑھتا نظرآیا ہے۔ پاکستان ، امریکہ کی طرف سے جوہری ٹیکنالوجی کے میدان میں بھارت جیسے معاہدے کا خواہاں ہے لیکن امریکہ نے بارہا واضع کیا ہےکہ وہ پاکستان پر ایٹمی پھیلاؤ کے الزامات کے پیشِ نظر اس کو اس حساس شعبے میں تعاون کے قابل نہیں سمجھتا۔ توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات چیت کے لئے آج کل پاکستان کا ایک وفد واشنگٹن کے دورے پر ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ اعظم کے مشیر برائے توانائی مختار احمد کر رہے ہیں ۔ پیر کے روزاعلیٰ امریکی حکام اور توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد پاکستانی سفارتخانے میں اخباری کانفرنس میں اُن کا کہنا رہا: ’ہم نے انہیں اپنی مستقبل کی توانائی کی ضروریات سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا ہے۔‘ جب اُن سے پوچھا گیا کہ جواب میں امریکی حکام نے پاکستان کو کوئی ٹھوس جواب دیا؟ تو انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی کے موضوع پرزیادہ بات نہیں ہوئی البتہ امریکیوں نے کوئلے اور دیگر غیر روایتی طریقوں سے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ توانائی کے شعبے میں پاکستان اور امریکہ کی یہ بات چیت ٹھوس نتائج کے بغیر صرف تبادلہء خیال کی حد تک محدود رہی تو غلط نہ ہوگا۔ بقول پاکستان کے مشیرِ توانائی ’یہ تو گفتگو کا سلسلہ ہے ،آگے جاری رہے گا‘۔ توانائی کے شعبے میں پاکستان اورامریکہ کے درمیان یہ انتہائی ابتدائی نوعیت کی بات چیت ایک ایسے وقت پر عمل میں آرہی ہے جب امریکی کانگریس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تاریخی اہمیت کے حامل جوہری سمجھوتے کوآخری شکل دی جا رہی ہے۔ اس ہفتے، امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینٹ کی عالمی امور کی کمیٹیوں سے اگر یہ سمجھوتہ زیادہ کسی ردوبدل کے بغیرگزر جاتا ہے تو جولائی میں امریکی کانگریس کی طرف سے اس کی منظوری کے امکانات واضع ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’فوج عوامی حکومت کی تابع‘ 05 April, 2006 | پاکستان امریکہ کا پالتو نہیں ہوں: مشرف28 April, 2006 | پاکستان ’غیر فوجی جوہری توانائی کا مطالبہ‘ 04 April, 2006 | پاکستان قومی مفادات کو ترجیح: قصوری 19 May, 2006 | پاکستان ’مشرف کے مسائل کا احساس ہے‘20 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||