نیٹو مِشن کو درپیش مسائل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جنوبی افغانستان میں ہم امن کو توسیع دینے کے کسی منصوبے پر کام نہیں کر رہے بلکہ باقاعدہ جنگ لڑ رہے ہیں‘۔ یہ الفاظ ایک ایسے انتہائی تجربہ کار فوجی مبصر کے ہیں جو افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ’طالبان‘ کے خلاف جاری نیٹو کے فوجی آپریشن کا انتہائی قریبی مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور نیٹو افواج کو اکثر اوقات دو بدو جنگی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے میں انہیں جانی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جانی نقصان انہیں کا ہوتا ہے۔ مخالف طالبان کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے ’اس جنگ میں فتح مندی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن مجموعی طور پر اس کے لیئے نیٹو اور برطانوی افواج کو مزید وسائل کی ضرورت ہے‘۔ سنیچر کو طیارے کے ایک حادثے میں برطانوی فضائیہ کے بارہ ارکان سمیت چودہ فوجیوں کی ہلاکت اور اس کے بعد نیٹو کو پہنچنے والے جانی نقصان کے بعد خاص طور پر برطانیہ میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ برطانوی افواج کو افغانستان میں یہ جانی نقصان اس وقت اٹھانا پڑا ہے جب وہ جنگ کے ایک حساس مرحلے میں مصروف ہے لیکن جانی نقصان کا سامنا صرف برطانیہ کو ہی نہیں اٹھانا پڑا کینیڈا کے فوجی بھی اس جنگ کے دوران مارے گئے ہیں۔ یہ جانی نقصان جیسے اور جس کا بھی ہو مجموعی طور پر افغانستان آپریشن میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
افواج کو صرف اسلحے اور آلات کی ہی کمی کا سامنا نہیں بلکہ زمینی افواج کو رسد کی کمی کا بھی سامنا ہے اور اندر کا حال جاننے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کمی ان علاقوں کے کئی شعبوں کے مؤثر انتظام میں ان کمزوریوں کی عکاسی کرے گی۔ یہ معاملہ مبینہ شورش کے انسداد کی جنگ میں جس بنیادی تضاد کا اظہار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے کو مستحکم بنانے کا ماحول اس وقت تک پیدا نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ مؤثر فوجی کامیابی حاصل نہ کر لی جائے۔ کیونکہ کوئی بھی فوجی آپریشن بذاتِ خود اچھی انتظامیہ اور ترقیاتی منصوبوں کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ اس میں فوج صرف اتنا ہی کر سکتی ہے کہ ایک ایسا ماحول پیدا کر دے جس میں افغان حکومت اور دوسرے ادارے قانون کی حکمرانی، صحت کی سہولیات، پانی کی بہتر فراہمی اور بنیادی قسم کے دوسرے مسائل کو ہر علاقے تک پھیلا سکیں۔ درحقیقت اصل جنگ تو عام لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے کی ہے اور اس میں کامیابی کے لیئے صرف طالبان کی شکست ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ نیٹو افواج اس وقت تک موجود رہیں جب تک یہ یقینی نہیں ہو جاتا کہ غیر ملکی افواج کے لوٹ جانے کے بعد افغانستان میں طالبان پھر سے لوٹ نہیں آئیں گے۔
اس سلسلے میں بی بی سی نے جن ذرائع سے رابطہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ برطانوی افواج کے پاس اتنی افرادی قوت اور تیزی سے نقل و حرکت کرنے والے یونٹ نہیں کہ وہ جن علاقوں کو طالبان سے خالی کرائیں وہاں اپنی ایسی موجودگی بھی برقرار رکھیں کہ ان علاقوں میں طالبان کی واپسی ممکن نہ ہو سکے۔ جنوبی افغانستان کی جغرافیائی نوعیت کے پیش نظر جاری کارروائی کے لیئے نہ صرف مزید سازو سامان درکار ہو گا بلکہ افرادی قوت بھی مطلوب ہو گی لیکن سوال یہ ہے کہ یہ، خاص طور پر فوجی جوان آئیں گے کہاں سے؟ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو وہ عراق اور دنیا کے دوسرے حصوں میں جاری ذمہ داریوں کی بنا پر شاید کم از کم ایک عرصے تک مزید فوجی جوان فراہم نہیں کر سکے گا۔ برطانوی فوج کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانوی افواج افغانستان میں اپنے کثیر الجہت وعدوں کو نبھا رہی ہیں اور اگر مزید ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی ضرورت ہو گی تو فوجی افرادی قوت نیٹو کے دوسرے ممالک کو فراہم کرنا ہو گی اور انہیں توقع ہے کہ نیٹو ممالک حالات کے اس تقاضے کو محسوس کریں گے۔ جہاں تک کھلے عام بات کرنے کا معاملہ ہے تو حکومتی وزراء اور فوجی کمانڈر اس وقت اس حال میں ہیں کہ جیسے تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہوں۔
بہر صورت اشارے واضح ہیں کہ افغانستان میں جاری لڑائی کے لیئے افرادی قوت وسائل دونوں ہی کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اس جنگ میں فتح محض اتنی نہیں ہے کہ طالبان کو شدید جانی نقصان پہنچایا جائے بلکہ جہاں جہاں فتح حاصل کی جاتی ہے وہاں وہاں فوجی موجو دگی کو مسلسل برقرار رکھنا بھی ہے۔ نیٹو ممالک نے اب تک فوجیوں کی مطلوبہ تعداد فراہم نہیں کی ہے اور اس وقت جب کہ اتحاد میں شامل بہت سے ملکوں نے لبنان میں اقوام متحدہ کے آپریشن کے لیئے بھی فوجی دینے کے وعدے کر لیئے ہیں ان کے لیئے افغانستان کے لیئے مزید فوجی دینا شاید اور بھی دشوار ہو جائے گا۔ |
اسی بارے میں نیٹو آپریشن: 200 ’طالبان‘ ہلاک03 September, 2006 | آس پاس ہلمند میں مزید 25 ’طالبان‘ ہلاک04 August, 2006 | آس پاس طالبان پر جاسوسہ کے قتل کا الزام09 August, 2006 | آس پاس کیا کوئٹہ سے گرفتار27 واقعی طالبان ہیں؟16 August, 2006 | پاکستان افغانستان: یہ شدت پسند کون ہیں؟18 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||