’طالبان پوست کی کاشت کے ذمہ دار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام نے الزام لگایا ہے کہ ملک میں سرگرم مبینہ دہشت گرد مالی فوائد کے لیئے پوست کی کاشت اور افیون کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان دور حکومت میں پوست کی کاشت کی پابندی دراصل عالمی مارکیٹ میں ہیروئن کی گرتی ہوئی قیمت کو سنبھالا دینا تھا۔ طالبان نے حکومتی الزام کی تردید کی ہے۔ حکومت کا حالیہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی جنوب مغربی علاقوں میں طالبان کی مزاحمت میں شدت آئی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ قندہار کے گورنر اسداللہ خالد نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ دہشت گرد اپنی کاروائیوں کےلیئے مالی ضروریات منشیات کی سمگلنگ سے پورا کرتے ہیں۔ گورنر اسداللہ خالد کا کہنا تھا کہ ’ہم افغانی ، بیرونی دہشت گرد اور افیون کے سمگلروں کے بیچ کوئی فرق نہیں کرتے۔ یہ زنجیر کی ایک کڑی کی مانند ہیں اور ایک ہی ہدف کےلیئے قریبی تعلقات رکھتے ہیں‘۔ مبینہ دہشت گردوں کا دیگر مالی وسیلوں کے علاوہ ایک اہم ذریعہ ہیروئن کی سمگلنگ بھی ہے۔ طالبان نے اپنے دور حکومت میں پوست کی کاشت پر پابندی لگائی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس وقت مارکیٹ میں افیون کی قیمت گرگئی تھی اس میں اضافے کے لیئے پابندی لگائی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کے انسداد منشیات اور جرائم کے ادارے نے اس سال مارچ میں ایک سروے رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سن دوہزار چھ میں افغانستان کے تیرہ صوبوں میں پوست کی کاشت میں اضافہ ہوگا ان صوبوں میں ہلمند، زابل، ننگرہار، لغمان اور بدخشان شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر علاقے مبینہ طور پر طالبان کے زیر اثر ہیں۔ بعض مقامی لوگوں سے بات کرنے پر انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ طالبان انہیں زبردستی پوست کی کاشت کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ان میں صوبہ قندہار ضلع ارغسان کے صاحبزادہ نے بتایا کہ وہ خود اس کے چشم دید گواہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’طالبان نے صوبہ ہلمند کی ایک مسجد میں عصر کی نماز کے بعد لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ ضرور پوست کی کاشت کریں تو لوگوں نے جواب میں کہا کہ حکومتی پابندی کی وجہ سے پوست کی کاشت نہیں کرسکتے کیونکہ حکومت اس کو تلف کرے گی‘۔ طالبان نے سخت الفاظ میں کہا کہ’ آپ لوگ کاشت کریں اور ہم حکومت سے لڑ کر ہر صورت میں فصل کا دفاع کریں گے‘۔ طالبان نے اپنے ہی دور حکومت میں پوست کی کاشت کو غیر اسلامی قرار دے کر پابندی لگائی تھی لیکن اب انہوں نے یہ دلیل دی کہ وہ حالت جنگ میں ہیں لہذا پوست کی کاشت کا اسلامی جواز موجود ہے۔ کاشت کار فیصدی کے حساب سے طالبان کو پیسے دیتے ہیں۔ طالبان حکومت نے سن دوہزار میں پوست کی کاشت پرجو پابندی لگائی تھی اس سے افیون کی پیداوار چارہزار سات سومیٹرک ٹن سے کم ہوکر یہ مقدار صفر تک ہوگئی تھی۔ حکومت کے تازہ الزام کو رد کرتے ہوئے طالبان کمانڈر ملا داد اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان پوست کی کاشت اور سمگلنگ میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افیون کے پیسے تاجروں کے جیبوں میں جاتے ہیں۔ ہمارا اس کاروبار کے ساتھ کوئی واسط نہیں ہے۔ یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے افیون کی سمگلنگ میں بذات خود امریکہ ملوث ہے البتہ فصل کی تلفی کی خاطر امریکیں یا افغان فوجی باہر آتے ہیں تو ہمیں ان پر حملے کا سنہری موقع ہاتھ آجاتا ہے۔ ہم انہیں کبھی نہیں چھوڑیں گے‘۔ طالبان کمانڈر کی اس تردید کے باوجود قندھار سے شائع ہونے والے ہفت روزہ سورغر کے مدیر عبدالحمید ترابی پوست کی کاشت میں طالبان کے ملوث ہونے کی رپورٹ درست قرار دیتے ہو ئے کہتے ہیں کہ طالبان ایک حکمت عملی کے تحت افیون کی کاشت کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ افغان حکومت کے بین الااقوامی امیج کو خراب کرکے اسے ایک کمزور اور ناکام حکومت ثابت کریں کیونکہ افغانستان میں عالمی برادری کی جو دو اہم دلچسپیاں ہیں ان میں دہشت گردی اور پوست کی کاشت کا خاتمہ شامل ہے۔
عبدالحمید ترابی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ خود انسداد منشیات کے بعض اہل کار اور کمانڈر کاشت کاروں سے پیسے لیکر فصل کی تلفی سے اجتناب کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد پوست کی کاشت میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ عالمی برادری اور افغان حکومت کی کوششوں کے باوجود گزشتہ سال افیون کی کاشت میں اکیس فیصد کمی آئی تھی جس میں اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق غربت اور کاشتکاروں کو حکومتی وعدوں کے باوجود متبادل فصلوں کے لیئے وسائل کی عدم فراہمی پوست کی کاشت میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں لیکن حکومت کے حالیہ الزام نے پوست کی کاشت کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک کردی ہے۔ | اسی بارے میں پوست کی کاشت، تشویشناک اضافہ24 September, 2004 | آس پاس افغانستان میں اگلا ہدف پوست18 November, 2004 | آس پاس افغانستان پوست کی کاشت کم27 March, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||