’گوانتانامو میں جو دیکھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی سابق طالبان حکومت کے پاکستان میں سفیر عبدالسلام ضعیف نے گوانتانامو کی جیل کی یاداشتوں پر مشتمل ایک کتاب میں قیدیوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کے الزامات لگائے ہیں۔ ضعیف چار سال گوانتانامو جیل میں گزارنے کے بعد سن دو ہزار پانچ میں رہا ہوئے تھے۔ انہیں پاکستان کی حکومت نے گرفتار کر کے افغانستان بھیج دیا تھا جہاں امریکی فوج نے جنوری سن دو ہزار دو میں انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ ضعیف نے افغانستان پر امریکی حملے کے دوران اسلام آباد میں ہر روز صحافیوں سے خطاب سے بہت شہرت پائی۔ طالبان کے سابق سفیر نے کہا کہ انہیں گوانتانامو جیل سے رہا کرتے ہوئے امریکی حکام نے خاموش رہنے کے لیئے کہا تھا۔ ضعیف نے کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ایک مقصد حقیقت بیان کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کا سلوک انسانی نہیں اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ ضعیف نے کہا کہ ان کی رہائی کے وقت ان سے پوچھا گیا کہ اب وہ کیا کریں گے؟ انہوں نے الٹا امریکیوں سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ انہیں جواباً کہا گیا کہ ان کے لیئے خاموش رہنا اور ذرائع ابلاغ سے بات نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ ضعیف نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ دنیا کو سچ معلوم ہو سکے اور وہ چاہتے ہیں کہ رہا ہونے گھر میں ہی رہیں اور خاموش رہیں، صورتحال کے بارے میں اور کسی چیز کے بارے کچھ نہ بولیں۔ کابل میں کتاب کی رونمائی کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی سینکڑوں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ | اسی بارے میں ’رہائی سے پہلے خودکشی‘12 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس طالبان سے رابطے کی کوشش کی تردید18 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||