BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 09:26 GMT 14:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک
پکتیا کے گورنر عبدالحکیم تانیوال، اس آپریشن میں اب تک تقریباً 450 لوگ مارے جاچکے ہیں
افغانستان میں نیٹو کی افواج نے قندھار صوبے میں جاری آپریشن کے دوران 94 مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ اس فوجی کارروائی میں فضائی اور زمینی حملے کیئے گئے ہیں۔

دریں اثناء افغان پولیس حکام کے مطابق ایک خودکش حملے میں پکتیا کے گورنر عبدالحکیم تانیوال بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

نیٹو کی فوج کا کہنا ہے کہ افغان فوج کے ساتھ کیئے جانے والے اس آپریشن کے دوران رات بھر میں مزاحمت کاروں کے ساتھ چار بڑی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ہلاکتوں کی اصل تعداد جاننے کا کام ابھی جاری ہے۔

سنیچر کو شمالی افغانستان میں نیٹو کی فوج نے چالیس مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔

نیٹو اور افغان فوج نے ’آپریشن میدوسا‘ ایک ہفتہ پہلے قندھار میں شروع کیا تھا۔ اس آپریشن میں اب تک تقریباً ساڑھے چار سو لوگ مارے جاچکے ہیں۔ تاہم طالبان کے ترجمان ہلاکتوں کی تعداد پر متفق نہیں ہیں۔

پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران نیٹو افواج کے بہت سے برطانوی اور کینیڈین فوجی مارے جا چکے ہیں۔ اس لیئے ترکی، جرمنی اور اٹلی نے افغانستان کی تعمیر نو کے لیئے افغانستان میں تعینات اپنے فوجیوں کو قندھار بھیجنے پر ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔

دو ستمبر کو شروع ہونے والے میدوسا آپریشن کا مقصد یہ ہے کہ باغیوں کو قندھار کے پنجوائی علاقے سے باہر نکال دیا جائے۔ جولائی کے آخر میں امریکہ نے اس علاقے کی سربراہی نیٹو کو سونپ دی تھی جس کے بعد سے نیٹو اتحادیوں کا یہ سب سے بڑا آپریشن ہے۔

جمعہ کے روز کابل میں امریکی کار پر خودکش حملے کے بعد یہ جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس میں کم از کم سولہ لوگ مارے گئے تھے۔ مرنے والوں میں دو امریکی بھی شامل تھے۔

خود کو طالبان کا نمائندہ بتانے والے ایک آدمی نے افغان نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ اس خود کش حملے کے پیچھے باغی گروہ کا ہاتھ ہے۔ ’خود کش حملوں کا سلسلہ تو بہت عرصے سے جاری ہے مگر یہ دھماکہ غیر معمولی تھا‘۔

طالبان دور کے رہنما احمد شاہ مسعود کی ہلاکت کو سنیچر کو پانچ سال پورے ہوگئے۔ متوقع حملوں کے پیش نظرافغان دارالخلافہ کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

افغان فوج کے سپاہیوں نے کابل کی طرف جانے والی ساری سڑکوں پر چیک پوائنٹس بنا دیئے ہیں اور ہر کار کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
نیٹو مِشن کو درپیش مسائل
05 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد