افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ اگر نیٹو ممالک نے مزید فوج نہ بھیج کرافغان حکومت کی مدد نہ کی تو خدشہ ہے کہ بطور ایک ریاست افغانستان ناکام ہو جائے گا۔ کینیڈا میں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ اگر مغربی ممالک نے سکیورٹی اور جمہوریت کے حوالے سے افعانستان کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک ریاست کے طور پر ناکام ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روس کے افغانستان سے جانے کے بعد امریکہ نے اسے تنہا چھوڑ دیا تھا اور ’ہم سب کو اس فیصلے کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ کیونکہ اگر ایسی اہم جگہ کوآپ تنہا چھوڑ دیتے ہیں تو پھر آپ کو بھگتنا بھی پڑتا ہے۔‘ انہوں نے کہ جغرافیائی طور پر افغانستان ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں یہ دہشت گرد تنظیوں کے لیئے بہترین پناہ گا بن سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے نیٹو کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے کہا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کی فوج میں مذید اضافے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی مزاحمت صورتِ حال کو مشکل بنا رہی ہے لیکن انہوں نے کینیڈا سے اپیل کی کہ وہ افغانستان میں نیٹو کی فوجی کارروائیوں کی مدد کرتا رہے۔ فی الوقت نیٹو کے بیس ہزار کے قریب فوجی ہیں لیکن مالی مدد کی درخواست کے باوجود رکن ممالک مزید دو ہزار پانچ سو فوجیوں کا وعدہ کرنے پر بھی رضا مند نظر نہیں آتے۔ منگل کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ دنیا کو القاعدہ تنظیم سے اتنا خطرہ نہیں جتنا طالبان سے ہے۔ انہوں نے کہ ان کے خیال میں القاعدہ تنظیم کو عوامی سطح پر لوگوں کی حمایت اور مدد حاصل نہیں تھی لیکن طالبان کی جڑیں عوام تک ہیں۔ | اسی بارے میں 92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ11 September, 2006 | آس پاس 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس چالیس مشتبہ طالبان ہلاک: نیٹو09 September, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت16 ہلاک08 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||