92 طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے جنوبی افغانستان میں مزید 92 مشتبہ طالبان ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل اتوار کے روز انھوں نے 94 مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ نیٹو کا دعویٰ ہے کہ میدوسا آپریشن میں اب تک وہ پانچ سو مشتبہ طالبان کو ہلاککیا جا چکا ہے۔ جبکہ بی بی سی کے نمائندے ایلسٹیئر کا کہنا ہے کہ نیٹو کے دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی لیکن نیٹو کی کینیڈین فوج کا جس افغان علاقے پر اب کنٹرول ہے یہ پہلے طالبان کے قبضے میں تھا۔ ہزاروں طالبان مزاحمت کاروں نے قندھار کے علاقے پنجوائی پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کا رابطہ افغانستان کے دوسرے اہم شہروں سے منقطع کر دیا تھا۔ یہ مزاحمت کار قندھار پر حملہ کرنے کی دھمکی بھی دے رہے تھے۔ نیٹو کی افواج افغان فوج کے ساتھ مل کر یہ آپریشن کر رہی ہیں۔ اس آپریشن میں وہ زمینی اور فوجی دونوں قسم کی طاقت استعمال کر رہی ہیں اور ان کے دعووں کے مطابق انہوں نے اب تک اس علاقے میں بہت سے ہتھیاروں کے زخیرے اور بم بنانے والی فیکڑی کو ڈھونڈ لیا ہے۔ نیٹو کے کچھ فوجیوں کے ہلاک ہونے کی غیر تصدیق شدہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ افغانستان میں تعینات نیٹو کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس دو چوتھائی فوجی اور ہوتے تو وہ زیادہ حملے کر سکتے تھے۔ | اسی بارے میں وزیرستان ایک تجربہ گاہ10 September, 2006 | پاکستان 94 مشتبہ طالبان، پکتیا گورنر ہلاک10 September, 2006 | آس پاس امریکی فوجیوں سمیت16 ہلاک08 September, 2006 | آس پاس ’افغان مزاحمت عراق سے شدید ہے‘08 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||