’افغان مزاحمت عراق سے شدید ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو ممالک کے فوجی سربراہوں کا جمعہ کے روز پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں اجلاس ہو رہا ہے جس میں افغانستان میں مزید فوجی کمک کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ افغانستان میں نیٹو فوج کے کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں مزاحمتی تحریک عراقی میں جاری مزاحمتی تحریک سے بھی شدید ہے۔ افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے اعلی ترین کمانڈر جنرل جیمز نیٹو کے چھبیس رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی کمانڈروں سے پولینڈ کے شہر وراسا میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ افغانستان میں نیٹو اور افغان فوجیوں کی مشتبہ طالبان کے درمیان جھڑپیں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ جنوبی افغانستان میں طالبان سے برسرِپیکار کمانڈروں نے کہا ہے کہ انہیں مزید فوجیوں، ہیلی کاپٹروں اور فضائیہ کی مدد درکار ہے۔ نیٹو کی افواج میں شامل کینڈا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے فوجی گزشتہ ایک مہینے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں برسر پیکار برطانوی برگیڈیر ایڈ بٹلر نے برطانوی ٹیلی ویژن آئی ٹی وی کو بتایا ہے کہ ان کی افواج پر روزانہ ایک درجن سے زیادہ حملے ہو رہے ہیں۔ برگیڈیر بٹلر نے کہا کہ افغانستان میں حملوں کی شدت عراق سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے فوجیوں پر حملے کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشتبہ طالبان ان پر انتہائی قریب سے حملے کر رہے ہیں اور کئی دفعہ ان کو دست بدست لڑائی کرنی پڑ رہی ہے۔ جمعرات کے روز افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے اعلی ترین کمانڈر جنرل جیمز جانز نے اعتراف کیا کہ وہ جنوبی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں سے ’حیران‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں طالبان کے خلاف جنگ انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ | اسی بارے میں قندھار: 14 برطانوی فوجی ہلاک02 September, 2006 | آس پاس افغانستان میں 14 برطانوی ہلاک02 September, 2006 | آس پاس پوست کی کاشت، ساٹھ فیصد اضافہ03 September, 2006 | آس پاس نیٹو مِشن کو درپیش مسائل05 September, 2006 | آس پاس ’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘07 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات07 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||