’جنوبی افغانستان میں کمک بھیجیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں موجود نیٹو افواج کے اعلی ترین کمانڈر جنرل جیمز جانز نے نیٹو کے رکن ممالک پر زور دیا ہےکہ وہ جنوبی افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکنے کے لیئے مزید کمک مہیا کریں۔ نیٹو کے کمانڈر نے اعتراف کیا کہ وہ جنوبی افغانستان میں طالبان کی کارروائیوں سے ’حیران‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں طالبان کے خلاف جنگ انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ جنوبی افغانستان میں طالبان سے برسرِپیکار کمانڈروں نے کہا ہے کہ انہیں مزید فوجیوں ، ہیلی کاپٹروں اور فضائیہ کی مدد درکار ہے۔ بیلجیئم میں نیٹو کے یورپی ہیڈکواٹر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہت بڑی تعداد میں کمک نہیں مانگ رہے۔ نیٹو کی افواج میں شامل کینڈا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے فوج گزشتہ ایک مہینے میں جب سے نیٹو نے اپنے امن مشن کا دائر کار جنوبی افغانستان میں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیٹو کی افواج نے افغانستان میں فوجی آپریشن کا کنٹرول امریکی فوج سے حاصل کیا ہے۔ جنرل جانز نیٹو کے چھبیس رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی کمانڈروں سے اگلے ہفتے پولینڈ کے شہر وراسا میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افغانستان میں انہیں طالبان کی طرف سے مزاحمت کی توقع تو تھی لیکن اس کی شدت ان کے لیئے حیران کن ضرور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افغانستان میں طالبان روائتی گھات لگا کر حملہ کرکے بھاگ جانے کی حکمت علمی پر عمل نہیں کر رہے۔ تاہم انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس صورت حال پر بہت جلد قابو پالیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں سردیوں سے پہلے جنوبی افغانستان میں صورت حال کا رخ بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہ افغان حکومت کے حق میں ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں نیٹو آپریشن: 200 ’طالبان‘ ہلاک03 September, 2006 | آس پاس نیٹو مِشن کو درپیش مسائل05 September, 2006 | آس پاس 70 طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ20 August, 2006 | آس پاس افعانستان : نیٹو فوجی ہلاک23 August, 2006 | آس پاس افغانستان: آٹھ افراد کی ہلاکت 24 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||