گوانتانامو قیدیوں پر جلد مقدمات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی میں سرکاری وکلاء کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں قید میبنہ دہشت گردوں پر اگلے سال کے آغاز میں مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ ان میں وہ چودہ مشبہ افراد بھی شامل ہیں جن کی سی آئی اے کی خفیہ جیلوں میں موجودگی کا اعتراف صدر بش نے بدھ کو کیا تھا۔ صدر بش فوجی عدالتوں کو دوبارہ فعال بنانے کا ارادوہ رکھتے جنہیں اس سال جون میں بند کر دیا گیا تھا۔ ڈک مارٹنی نے جنہوں نے کونسل آف یورپ کی جانب سے سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں کے بارے میں تفتیش کی تھی صدر بش کی طرف سے ان کی موجودگی کے بارے میں اعتراف کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ گو تاخیر سے سہی وائٹ ہاوس نے سرکاری طور پر ان کی موجودگی کا اعتراف کر لیا ہے۔ سوئس سینیٹر نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ جس نے بلآخر آدھا سچ بولنا شروع کر دیا ہے پورا سچ بھی بولنے لگیں گے اور جس کی ان پر ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ سی آئی اے کی طرف سے ان ملکوں میں عقوبت خانے چلانے پر جہاں تشدد قانونی طور پر جائز ہے امریکہ کے اپنے مغربی اتحادیوں سے تعلقات میں رنجش بھی پیدا ہوئی تھی۔ اگر صدر بش کی تجویز کو کانگرس کی طرف سے منظوری حاصل ہو گئی تو پینٹاگن کے اعلی ترین سرکاری وکیل کے مطابق گیارہ ستمیر کے حملوں کے منصوبہ ساز خالد شیخ محمد پر بھی آئندہ چند مہینوں میں مقدمہ چلایا جاسکے گا۔ کرنل ڈیوس نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ انہیں امید ہے کہ اگلے سال کے شروع میں وہ عدالتوں کے سامنے ہیں۔ انہوں نےکہا کہ پچہتر مشتبہ افراد پر مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے اور ان میں کچھ کو موت کی سزا بھی سنائی جاسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید06 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||