BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 September, 2006, 21:12 GMT 02:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خفیہ جیلیں: بش پرشدید تنقید
جارج بش
بُش انتظامیہ کو ’دہشت گردی کے ملزمان‘ کے بارے میں پالیسی پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا
امریکی صدر جارج بُش کو سی آئی اے کے خفیہ جیل خانوں کی موجودگی کے اعتراف کے بعد کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

صدر بش نے یہ اعتراف بدھ کو امریکی ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے دوران کیا تھا۔

اس کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور حزب اختلاف کے سیاستدانوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا۔

صدر بش کا موقف تھا کہ سی آئی اے کے یہ خفیہ قید خانے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم حزب مخالف کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر رابرٹ منیندیز نے کہا ہے کہ اب ایسی پالسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

ڈِک مارٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ جتنی مضبوط جمہوریت کو اب ان خفیہ جیل خانوں کے پروگرام کے بارے میں پوری حقیقت بیان کرنے سے کترانا نہیں چاہیے۔ ڈک مارٹی نے یورپی کونسل کے لیئے ان جیل خانوں پر تفتیش کی تھی۔

صدر بش نے کہا تھا کہ ان جیلوں میں قید چودہ قیدیوں کو اب کیوبا میں خلیج گوانتانامو کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

صدر بُش نے کہا کہ سی آئی اے کا تفتیشی طریقۂ کار زندگیاں بچانے کے لیئے ’اہم‘ تھا تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ قیدیوں پر تشدد کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان چودہ قیدیوں میں گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کے ایک ملزم خالد شیخ محمد بھی شامل ہیں۔

صدر بُش نے کہا کہ تمام ملزمان کو جنیوا کنونشن میں موجود تحفظات کا فائدہ ملے گا۔

صدر بُش نے امریکی ٹیلی ویژن پر گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی مبینہ دہشت گرد سی آئی اے کی تحویل میں نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سی آئی اے کے پروگرام کے بارے میں محدود معلومات اس لیئے فراہم کر رہے ہیں کیونکہ اس کےتحت گرفتار ہونے والے افراد سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور کیونکہ امریکی سپریم کورٹ فوجی قوانین کے تحت مقدمات کے خلاف فیصلہ دے چکی ہے۔

صدر بُش نے کہا کہ وہ کانگریس سے گیارہ ستمبر کے ملزمان کے خلاف فوجی قوانین کے تحت کارروائی کو جائز قرار دینے کی درخواست کریں گے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے بدھ کو نئے رہنما اصول وضع کیئے جن کے تحت فوج کی قید میں ملزمان پر جنیوا کنونشن کا اطلاق ہوسکے گا۔ اس سے پہلے پینٹاگون کہتا رہا ہے کہ کئی زیر حراست افراد غیر قانونی جنگجو ہیں جنہیں جنیوا کنونشن میں دی گئی مراعات حاصل نہیں ہو سکتیں۔

محکمۂ دفاع کے نئے رہنما اصول تشدد، قیدیوں کو ڈرانے کے لیئے کتوں کا استعمال، پانی میں ڈبونا، جنسی ذلت اور اس طرح کے کئی دیگر طریقوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد