BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 August, 2006, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: خارجہ پالیسی اور شدت پسندی

ساجد اقبال
’ریوائول‘ نوجوانوں کے خیالات کا عکاس ہے: ساجد اقبال
ہزاروں مسلمان نوجوان مانچسٹرمیں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے لیئے جمع ہوئے جس کا مقصد مذہب اور مسلمان کمیونٹی سے متعلق مسائل پر بحث کرنا تھا۔

یہ لوگ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بارے آخر کیا کہتے ہیں؟

یہاں اولڈھم سے آئے ہوئے ساجد اقبال بھی ہیں جن کے ذہن میں ایک مشن ہے۔ وہ معاشرتی اور سیاسی موضوعات کے ایک پندرہ روزہ رسالے ’دی ریوائول‘ (تجدید) کے ایڈیٹر ہیں جو کہ پندرہ سو کی تعداد میں نوجوانوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

میں ساجد اقبال اور ان کے ساتھی محمد ایوب کو سن رہا تھا کہ وہ وہاں سے گزرتے ہوئے لوگوں سے کیا کہہ رہے تھے۔

’مسلمان نوجوانوں کے پاس کوئی رول ماڈل نہیں ہے‘ ساجد نے کہا۔’ اسلام میں ہمارے پاس رول ماڈل ہے اور وہ پیغمبر اسلام ہیں۔ لیکن ہمیں اپنی عام زندگی کے لیئے بھی ایسی شخصیات چاہئیں جن کی پیروی کی جاسکے، جیسے سکالر اور امام۔ لیکن فی الوقت یہ ماڈل کہیں اور سے آ رہے ہیں۔ مثلاً منشیات بیچنے والے، یا اسامہ بن لادن۔ ہمیں یہ بات یقینی بنانا ہے کہ مسلمان نوجوانوں کے پاس ایسے رول ماڈل ہوں جن سے وہ متاثر ہوں اور ان کی پیروی کریں۔‘

’اسلامو فوبیا‘ یا اسلام کے بارے میں منفی رویوں کے ستائے ہوئے کم از کم پانچ ہزار نوجوان اس کانفرنس میں جمع ہوئے۔ یہ لوگ سیاست، سوسائٹی اور زندگی کے عمومی مسائل پر بات چیت کرنے کے لیئے اکھٹے ہوئے۔اس کے علاوہ کانفرنس کے دوران اولڈھم میں ایک نئی جامعہ مسجد اور سوشل سینٹر کے لئیے رقم بھی اکھٹی کی گئی۔

چندہ اکھٹا کرنے کی مہم ، مسخروں کے شو، صوفی موسیقی ’نشید‘ اپنی جگہ لیکن کانفرنس میں ہر کوئی حالیہ واقعات کے بارے میں ہی بات کر رہا تھا۔

گواتانامو بے کے قیدیوں کی علامتی ٹی شرٹیں بھی کانفرنس میں فروخت ہو رہی تھی۔

چند ہی دن ہوئے وزیرداخلہ جان ریڈ نے مسلمان رہنماؤں کے اس بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ایک وجہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی ہے۔

حالانکہ اس پیغام سے برطانوی وزراء کو باخر ہونا چاہیئے تھا۔لندن دھماکوں کے بعد جو لوگ ہوم آفس منسٹر ہیزل بلیرز سے ملے تھے ان میں ’ریوائول‘ کے مدیر بھی شامل تھے۔ اس ملاقات میں انہوں نے کہا وہ خارجہ پالسی پر بات کرنا چاہتے ہیں جس پر انہیں کہا گیا کہ یہ موضوع ملاقات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔

ساجد اقبال کا کہنا ہے وہ خاصی اذیت میں رہے ہیں۔ وہ جب یونیورسٹی میں تھے انہیں اسلام پنسد گروپوں کی اس بات نے بھی متاثر کیا کیا مغرب میں سب کچھ غلط ہو رہا ہے جس کے خلاف سخت اقدامات ہی درست راستہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی دوسرے دوسرے نوجوانوں کی طرح انہوں نے بھی جب نوجوانی میں قدم رکھا تھا وہ مساجد میں اپنے بڑوں کی باتوں سے زچ آ چکے تھے کیونکہ ان کی باتوں میں اس بات کا کوئی حل نہیں تھا کہ ان کا اس معاشرے میں مقام کیا ہے۔ ان بڑوں کی طرف سے ان باتوں میں کوئی رہنمائی نہیں ملی جو باتیں مسلمان بچوں کو پریشان کر رہی تھیں۔ساجد کو لگتا ہے کہ حکومت بھی وہی غلطی کر رہی ہے جو ان کے بڑے کرتے رہے ہیں۔

چندہ سے بھری بالٹیوں میں صرف سکے نہیں تھے

ساجد اقبال اور محمد ایوب پھر خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ پر برطانیوں موقف، غربت اور بوڑھی اور نوجون نسل کی سوچ میں فرق، تینوں عناصر مل کر ایک ایسی فضا کو جنم دیتے ہیں جو شدت پسندی کے لیئے زرخیز ہے۔

محمد ایوب کے بقول ’ اگر آپ باقی عوامل سے الگ کر کے بھی دیکھ لیں تو خارجہ پالسیی بذات خود ایک اہم ایشو ہے۔ خارجہ پالسیی کے بارے میں کچھ اعراضات تو درست ہیں مگر کچھ غلط بھی ہیں۔ نوجون نسل کا کہنا ہے کہ ان کی نمائندگی کوئی بھی نہیں کر رہا۔ نہ ان کے منتخب ارکان پارلیمان، نہ ان کے مقامی کونسلرز اور نہ ہی کوئی دوسرا۔نتیجہ یہ ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ چیزیں مسلمانوں کے خلاف جا رہی ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ اگرایسا ایک دفعہ ہو تو وہ کہتے کہ یہ حادثہ تھا، دو دفعہ ہو توانسان کہتا ہے کہ بدقسمتی تھی لیکن جب تیسری مرتبہ بھی ایسا ہی ہو تو آپ کو لگتا ہے کہ یک ایک سازش ہے۔‘

مانچسٹر آنے والوں میں ایک بڑا نام ڈاکٹر عظام تمیمی کا تھا جن کا تعلق مسلم ایسوسی ایشن آف بریٹن سے ہے۔ڈاکٹر عظام تمیمی فلسطینی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف خود کش حملوں کو جائز کہا جا سکتا ہے۔

ایک جذباتی خطاب کے دوران انہوں نے جارج بُش اور ٹونی بلیئر پر الزام لگایا کہ انہوں نے’دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ‘ میں بدل دیا ہے۔حاضرین نےاس وقت بہت جوش و خروش سے تالیاں بجائیں جب انہوں نے کہا کہ ’ حزب اللہ اور حماس نے اسرائیل کی بےعزتی کی۔ یہ لوگ اسلام کے محافظ ہیں۔ حزب اللہ اور حماس آپ لوگوں کے لیئے قربانیاں دے رہے ہیں اور امت مسلمہ کا تحفظ کر رہے ہیں۔‘

مانچسٹر میں کانفرنس کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس میں دو پیغام مشترک تھے اور وہ تھے مسلمانوں کے عالمی دکھ اور اتحاد کی ضرورت۔فلسطینی کے بارے میں سیاسی ڈی وی ڈیز سے لے کر سیاسی اسلام پر کتب سے گوانتانامو بے کے قیدیوں شرٹوں پر، غرض ہر جگہ یہی دو پیغامات دیکھنے میں آئے۔

’مسلم ایڈ‘ نامی تنظیم کے کارکن پلاسٹک کی بالٹیاں لیئے لبنان کے لیئے چندہ جمع کر رہے تھے۔ بالٹیوں میں صرف سکے نہیں بلکہ دس اور بیس پونڈ کے نوٹ بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

’میں یہاں نہ آتا اگر میں نے ہلاک ہوتے لبنانی بچوں کی تصویریں نہ دیکھی ہوتیں۔‘ بالٹی اٹھائے لندن سے آئے ہوئے رے فرینک نے کہا۔

میں اور رے فرینک چل رہے تھے کہ تین نوجوان لڑکیاں آئیں اور انہوں نے پوچھا کہ وہ یہ رضاکارانہ کام کیسے کر سکتی ہیں۔چند ہی منٹ بعد بالٹی لیئے ایک شخص آیا۔ اس نے تقریباً ایک کلوگرام کے سکے بالٹی میں ڈالے اور تھوڑی ہی دیر میں ایک نئی رضاکار چندہ جمع کرنے لگ گئی۔

وہاں پر موجود فاروق نے کہا ’پانچ سال پہلے مجھے فخر تھا لیکن اب میرے والد، جن کی لمبی داڈھی ہے، گھر سے نکتے ہوئے ڈرتے ہیں۔یہ سارا کچھ میڈیا میں ہمیں جیسے پیش کیا جا رہا ہے، اسی کا کیا دھرا ہے۔‘

زرینہ جاوید کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی غیرمعیاری ہے۔
رقیہ ایک چھوٹی سیاسی تنظیم ’مسلم پبلک افیئرز کمیٹی‘ کی کارکن ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرے سیاست میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ میں نے سنہ دو ہزار تین میں جنگ مخالف مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ مجھے لگا کہ ہمارے وزیر اعظم ہمیں ایک جنگ میں لے جا رہے تھے جس کے سب مخالف تھے۔‘

زرینہ جاوید کا کہنا تھا کہ اب انہیں ووٹ دینے کے لیئے کسی کے کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ عراق جنگ کے بعد سے انہوں نے لیبر پارٹی کو خداحافظ کہہ کرگرین پارٹی کی حمایت شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو چاہیئے کہ وہ یہ سوچے کہ اس کے لیئے کیا اچھا ہے بجائے اس کے کہ امریکہ کے لیئے کیا اچھا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’لگتا ہے حکومت کی ساری پالیسیاں گھبراہٹ میں بنائی جا رہی ہیں۔ ان میں معیار والی کوئی بات ہی نہیں ہے۔اور حکومت بعد میں پالیسیوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی لیکن وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ غلطی کو درست کیسے کیا جاتا ہے۔‘

’بموں کا نشانہ صرف مسلمان نہیں بن رہے بلکہ خارجہ پالیسی میں جس کی کمی ہے وہ انسانی ہمدردی کا پہلو ہے۔‘

مسلم کمیونٹی کا خط
بلیئر سے خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کامطالبہ
لندن میں جنگ مخالف مظاہرے’آئی وانٹ پیس‘
لندن میں جنگ مخالف مظاہرے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد