’سی آئی اے جیلیں موجود ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کونسل آف یورپ کی جانب سے یورپ میں خفیہ امریکی جیلوں سے متعلق الزامات کی چھان بین پر معمور سوئس سینیٹر ڈِک مارٹی نے کہا ہے کہ انہیں پورا یقین ہے کہ یہ خفیہ جیلیں موجود ہیں۔ ڈِک مارٹی نے امریکہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں کا نوٹس نہ لینے پر مذمت کی۔ مسٹر ڈِک مارٹی اپنی ابتدائی رپورٹ تئیس جنوری کو کونسل آف یورپ کے سامنے پیش کرنے والے ہیں۔ امریکہ نے خفیہ جیلوں کے معاملے پر سینیٹر ڈِک مارٹی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم اس نے ایذا رسانی یا ٹارچر کو استعمال کرنے سے متعلق الزامات کو رد کیا۔ سوئٹزرلینڈ میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ سی آئی اے نے دھشت گردی کے شبہ میں ایک سو پچاس کے قریب افراد کو گرفتار کرکے مشرقی یورپ میں خفیہ مقامات تک پہنچایا ہے جہاں انہیں اذیت دی جاسکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ثبوت کے لئے اس انکوائری میں مزید ایک سال درکار ہو گا۔ برن میں بی بی سی کی نامہ نگار اِموجِن فوکس کے مطابق سینیٹر ڈِک مارٹی کا بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں سوئس انٹیلی جنس سروس کی چند خفیہ دستاویزات کے منظر عام پر آنے سے ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ کئی مشرقی یورپی ممالک میں سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مراکز موجود تھے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||