’گوانتانامو میں خودکشی ناممکن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیوبا میں امریکی قیدخانے سے رہائی پانے والے پہلے پاکستانی قیدی محمد صغیر کا کہنا ہے کہ گوانتناموبے میں کسی اسیر کا خودکشی کا امکان ہی نہیں ہے۔ پچپن سالہ صغیر نے پیر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امریکی بیان کو غلط اور جھوٹ قرار دیا جس میں کہا گیا ہے کہ تین قیدیوں نے خودکشی کی تھی۔ محمد صغیر کا کہنا تھا کہ گوانتناموبے کے قید خانے میں یہ کسی قیدی کے لیئے ممکن ہی نہیں کہ وہ خود کو پھانسی دے یا کسی اور چیز سے اپنے آپ کو ختم کرلے۔ ’چھ فٹ کے جنگلے والے کمرے میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اپنے آپ کو لٹکا سکے۔ اس کمرے میں نہ تو پنکھا ہوتا ہے اور نہ کوئی کنڈا جس سے کوئی اپنے آپ کو لٹکا سکے۔ اگر اپنے کپڑے سے کوئی پھانسی دینا بھی چاہے تو نہیں دے سکتا‘۔ صوبہ سرحد کے دورافتادہ ضلع کوہستان کے ایک چھوٹے سے قصبے پٹن میں آرا چلانے کا کام کرنے والے محمد صغیر کو شمالی افغانستان سے جنرل عبدالرشید دوستم کے جنگجوؤں نے پکڑ کر امریکیوں کے حوالے کیا تھا۔ وہ تقریباً ایک برس کی قید کاٹ کر گوانتناموبے سے ستائیس اکتوبر کو پاکستان واپس لائے گئے تھے۔ تاہم پاکستان میں حکام نے انہیں مزید نو دن حراست میں رکھنے کے بعد گھر جانے دیا تھا۔
صغیر کا کہنا تھا کہ جیل میں کوئی ایسی چیز ہی قیدیوں کو نہیں دی جاتی جسے وہ اپنے خلاف استعمال کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ اس بات کو ماننے کے لیئے تیار ہی نہیں کہ تین قیدیوں نے خودکشی کی ہوگی۔ البتہ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی قید کے دوران بھی کئی قیدیوں نے خودکشی کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ صغیر کا کہنا تھا کہ قیدی یہ انتہائی قدم مجبور، ناامید اور ڈپریس ہوکر اٹھاتے تھے۔ کیوبا میں تقریبًا ایک برس قید کاٹنے کے بعد اکتوبر سن دو ہزار دو میں انہیں امریکیوں نے رہا کر دیا تھا۔ انہوں نے واپسی پر امریکہ کے خلاف ہرجانے کا ایک عدالت میں دعوٰی بھی کیا تھا تاہم اس میں ابھی بقول ان کے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق تین قیدیوں نے جن میں دو سعودی عرب اور ایک یمن کا باشندہ بتایا جاتا ہے، کپڑے سے پھندا بنا کر اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سن دو ہزار دو کے اوائل میں قائم کیئے گئے امریکی قیدخانے میں کسی کی خودکشی کی کوشش کامیاب ہوئی ہو۔ تاہم یہ پہلی کوشش نہیں تھی۔ امریکی حکام کے مطابق ایسی پچاس کے قریب کوششیں ہوچکی ہیں۔ مالاکنڈ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی قیدی شاہ محمد نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کیمپ ڈیلٹا میں حراست کے دوران چار مرتبہ خودکشی کی کوشش کا اعتراف کیا تھا۔ ایک ایسی جگہ جہاں امریکہ نے ابھی تک کسی حقوق انسانی کی تنظیم کو جانے کی اجازت نہیں دی، ان تین تازہ ہلاکتوں کی آزاد ذرائع کی جانب سے تحقیقات ممکن نظر نہیں آتیں۔ | اسی بارے میں ’رہائی سے پہلے خودکشی‘12 June, 2006 | آس پاس ’ تیرہ نہیں انتیس پاکستانی‘16 May, 2006 | پاکستان گوانتامو: قیدیوں کا محافظوں پر حملہ20 May, 2006 | آس پاس خودکشیاں ’پی آر‘ کے لیئے: امریکہ11 June, 2006 | آس پاس عراقی’قتلِ عام‘ پر امریکی پریشان31 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||