عراقی’قتلِ عام‘ پر امریکی پریشان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حدیثہ کا واقعہ جس میں امریکی میرینز پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس معصوم عراقیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا، امریکہ میں تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ ’لیک‘ شدہ اطلاعات کے ذریعے امریکی میڈیا میں اب تک حدیثہ کے واقعے سے متعلق کافی مواد پہنچ گیا ہے جس کے بعد بہت سے امریکی شہری یہ سوچنے پر مائل ہیں کہ شاید امریکی میرینز پر عائد ہونے والے الزامات بہت سنگین نوعیت کے ہیں اور یہ صحیح بھی ہو سکتے ہیں۔ ویت نام جنگ میں شریک ہونے والے ایک امریکی میرین جون مرتھا جو اب جنگ مخالف ہیں اور کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے نمائندے ہیں کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ حدیثہ میں عام لوگوں کو قتل کیا گیا ہے۔ مرتھا یہ بھی کہتے ہیں کہ اعلیٰ امریکی افسران نے اس واقعے کو چھپانے کی بھی کوشش کی ہے۔
ہفتۂ رواں کے اوائل میں انہوں نے اے بی سی ٹیلیوژن سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے معلوم ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر پردہ پوشی کی کوشش کی گئی ہے۔ انہیں (اعلیٰ امریکی افسران کو) چند ہی دنوں بعد معلوم ہوگیا تھا کہ کیا ہوا ہے۔‘ جون مرتھا کا کہنا تھا: ’اسں طرح کی بات عوام کے سامنے لانی پڑتی ہے اور مرتکب افراد کو سزا بھی دینی پڑتی ہے۔ حدیثہ کا معاملہ تو چھ ماہ سے چل رہا ہے۔‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کیمٹی کے چیئرمین اور صدر بش کے سینئرترین فوجی مشیر جنرل پیٹر پیس حدیثہ کے معاملے پر بہت کم بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’اگر لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں تو ظاہر ہے انہوں نے اپنا فرض اس انداز سے ادا نہیں کیا جیسا کہ ان کے ننانوے اعشاریہ نو فیصد ساتھی میریز کر رہے ہیں۔ ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے اور ضروری ہوا تو مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔‘ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل پیس، جو اتفاق سے خود بھی میرین ہیں، میرینز پر لگنے والے الزامات کو فوری طور پر غلط قرار نہیں دے رہے۔ وہ یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ حدیثہ کا قصہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری تحقیقات کے نتائج کا انتظار ہے، لیکن دوسرے اہم لوگ یہ بھی نہیں کہہ رہے۔ البتہ ان میرینز کے اہلِ خانہ جنہیں اس مبینہ واقعہ کا علم ہے، صورتِ حال پر تبصرے کر رہے ہیں۔ مثلاً ایک میرین کی والدہ نے اے بی سی ٹیلیوژن سے انٹرویو کے دوران کہا کہ جب سے ان کے بیٹے نےسرکاری مجبوری کے تحت حدیثہ میں مرنے والوں کی تصاویر بنائی ہیں جن میں اس بچے کی لاش بھی ہے جسے سر پر گولی مار کر ہلاک کیا گیا، وہ ذہنی صدمے سے دوچار ہے۔ عام طور پر امریکی لوگ اپنے فوجیوں کی طرف داری کرتے ہیں اور ان کا یہی کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ چند فوجیوں یا میرینز کا کوئی عمل پوری کی پوری فوج کے مجموعی رویے کا عکاس ہو۔ لیکن حدیثہ میں جس طرح کا واقعہ ہوا ہے اس کا اثر مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں قتل عام کی تفصیلات سامنے لائیں گے: امریکہ 31 May, 2006 | آس پاس عراق میں غلطیاں ہوئیں: رائس31 March, 2006 | آس پاس عراق: ابوغریب میں قیدیوں پرمظالم15 February, 2006 | آس پاس بش نے غلط فیصلے کیے: کیری20 September, 2004 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||