BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 10 April, 2006, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے

ایک عراقی اپنے احباب کے تابوت پر روتا ہوا
یہ تین سال قبل، عراق پر حملوں سے چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ میں قاہرہ کے ایک بڑے ہوٹل میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا انٹرویو کررہا تھا۔ اس وقت انہوں نے ان خطرات کی نشاندہی کی جو حملے کے بعد پیدا ہوسکتے تھے۔

امریکی اور برطانوی فوجی عراق میں کئی برسوں کے لیئے پھنس جائیں گے۔ سنیوں اور شیعوں میں سِول وار ہوگی۔ اس سب سے فائدہ صرف اور صرف ایرانی حکومت کو ہوگا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ امریکیوں کو یہ بتاتے ہیں تو وہ کیا جواب دیتے ہیں؟

سعود الفیصل نے کہا: ’وہ سنتے بھی نہیں۔‘

بغداد میں گزشتہ تین برسوں کے قیام کے دوران میں نے ان کی پیشین گوئیوں کو ایک ایک کرکے حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

اس کی پہلی کڑی لوٹ مار تھی۔ جیسے ہی صدام حسین بغداد سے فرار ہوئے، عوام نے پرانے نظام کے ہر ایک نشان کو توڑنا شروع کردیا، اس بات کی پرواہ کیے بغیر کے اس کے نقصانات بھی ہوسکتے ہیں۔

میں نے لوگوں کے ہجوم کو دیکھا جو ایک ہسپتال پر دھاوا بولے ہوئے تھے، ایسا سامان بھی لوٹ کر لے جارہے تھے جو ان کے کسی کام کا تو نہ تھا لیکن ہسپتال چلانے کے لیئے ضروری تھا۔

سفر: صرف طیارے سے ممکن
 جب ہم صحافتی ڈیوٹی پر اردن سے فلوجہ کے ذریعے سفر پر نکلے، یا کویت سے حلہ اور ناصریہ کے ذریعے بغداد کے لیئے روانہ ہوئے ہمیں کبھی کبھی تو خدشہ رہتا تھا لیکن ہم ہمیشہ منزل پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اب حالات یہ ہیں کہ سفر کرنے کا واحد ذریعہ طیارہ بچ گیا ہے۔
وزارت اطلاعات کی عمارت میں میں نے دیکھا کہ لوگوں دیواروں کے پلاسٹر اور فرش کو توڑ کر لے جارہے تھے۔ امریکی فوجی باہر کھڑے رہے، انہوں نے انہیں روکنے کے لیئے کچھ نہیں کیا۔ کبھی وہ ہوا میں فائر تو کرتے تھے لیکن لٹیرے ان کی فکر نہیں کرتے تھے۔

اس وقت تک عراقیوں نے سوچا تھا کہ امریکہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور ان کی مدد کے لیئے یہاں آیا ہے۔ اسی وقت یہ تاثرات بدلنا شروع ہوگئے۔

اگلے ایک سال، تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ، آپ بغداد کا چکر لگا سکتے تھے، اور ملک کے دوسرے حصوں کا بھی دورہ کرسکتے تھے۔

جب ہم صحافتی ڈیوٹی پر اردن سے فلوجہ کے ذریعے سفر پر نکلے، یا کویت سے حلہ اور ناصریہ کے ذریعے بغداد کے لیئے روانہ ہوئے ہمیں کبھی کبھی تو خدشہ رہتا تھا لیکن ہم ہمیشہ منزل پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اب حالات یہ ہیں کہ سفر کرنے کا واحد ذریعہ طیارہ بچ گیا ہے۔

دیگر ذرائع ابلاغ کی طرح بی بی سی کا دفتر بغداد کے مرکز میں، ہائی سکیورٹی والے گرین زون میں نہیں۔ تاہم ہمارے دفتر پر انتہائی سکیورٹی ہے۔

اپریل دوہزارچار میں، فلوجہ پر امریکی حملے کے ساتھ، عراق میں سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ شہر چھوٹا ہے، لیکن مزاحمت کاروں پر کنٹرول حاصل کرنے میں وقت لگا۔ تاہم مکمل کامیابی نہیں ملی۔ امریکی آپریشن کی سفاکی نے عراق میں عوامی رائے غصے میں تبدیل کردی۔

بالکل اسی وقت عراقی سیاست دانوں کی بات نہ مانتے ہوئے امریکیوں نے ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے خلاف بھی کارروائی کردی۔

اس کے بعد سے مرکزی عراق کے شہر اور قصبے پرخطر ہوگئے۔ ہمیں ’آئی ای ڈی‘ کا لفظ بار بار سنائی دینے لگا، جس کا مطلب ہوتا ہے دستی بم۔

عراقی عوام قیادت کی تلاش میں
امریکی منتظم پال بریمر کے زیرقیادت اتحادی انتظامیہ نے جولائی دوہزار چار میں ملک کی باگ ڈور ایک عبوری عراقی انتظامیہ کے حوالے کردی۔ اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئی: کرپشن پہلے سے بھی بڑھ گئی تھی، اور لوگوں کو احساس ہوا کہ اب نہ تو اتحادی فوج اور نہ ہی عراقی انتظامیہ گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیئے کچھ کرسکتی ہے۔

اگلا اہم موڑ تھا جنوری دوہزار پانچ کا الیکشن۔ چونکہ مزاحمت کاروں نے ووٹروں کی بڑی تعداد اور جوش و خروش دیکھا، اس لیئے تشدد کافی کم ہوگیا۔ مزاحمت کاروں نے انتظار کیا اس بات کا کہ کیا وہ نئی حکومت کے ساتھ کچھ کرسکتے ہیں۔ لیکن تین مہینوں تک کوئی حکومت وجود میں نہیں آئی، سیاست دان آپس میں لڑتے رہے، وقت گزرتا گیا۔ پھر کیا تھا، تشدد اپنے پرانے پیمانے پر لوٹ آیا۔

گزشتہ سال جولائی میں خانہ جنگی کی باتیں ہونے لگیں۔ پھر آئین پر ایک ریفرنڈم ہوا اور اس کے بعد انتخابات ہوئے، پھر بھی ایک مؤثر انتظامیہ عراقیوں سے کوسوں دور تھیں۔ دسمبر کے عام انتخابات کے چار ماہ بعد تک اب بھی عراق میں حکومت کا نام نہیں۔

عراقیوں کی ہجرت
 خاموشی کے ساتھ لوگ ہجرت کررہے ہیں، ان علاقوں کے لیئے جہاں ان کے فرقے کی آبادی زیادہ ہے۔ سنیوں اور شیعوں میں شادیاں عام بات ہوتی تھیں لیکن اب شاید ہی کوئی اس طرح کی خبر سنتا ہے۔
شورش میں تھوڑی سی کمی آئی ہے۔ امریکی، برطانوی اور عراقی فوجی کم مررہے ہیں۔ عراقی پولیس پر جلدی جلدی حملے نہیں ہوتے۔ اس کے بدلے میں مزاحمت کاروں کو آسان ٹھکانے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک پوری کوشش ہے کہ خانہ جنگی پیدا کی جائے۔ شیعہ مذہبی عمارتوں پر حملے کے بعد اکثر کسی سنی فرد کا قتل ہوجاتا ہے، کبھی کبھی درجنوں کی تعداد میں بھی۔

خاموشی کے ساتھ لوگ ہجرت کررہے ہیں، ان علاقوں کے لیئے جہاں ان کے فرقے کی آبادی زیادہ ہے۔ سنیوں اور شیعوں میں شادیاں عام بات ہوتی تھیں لیکن اب شاید ہی کوئی اس طرح کی خبر سنتا ہے۔

بغداد کے ایک ہسپتال میں ذہنی امراض کے ایک ماہر نے مجھے بتایا کہ عراق میں ذہنی مریضوں کی تعداد آبادی کے تین فیصد سے کم ہوتی تھی لیکن اب یہ تعداد سترہ فیصد تک جاچکی ہے۔

نفسیات کے ایک دوسرے ماہر نے مجھے بتایا کہ صدام حسین کے دور میں بھی لوگوں پر آمریت کے اندر زندگی گزارنے کے اثرات پائے جاتے اور ان کے اندر ذہنی تناؤ کی سطح کافی زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے مریضوں اس نے دوسری شکل اختیار کرلی ہے: اب وہ تشدد اور زخم کے خطرے سے نہیں ڈرتے، بلکہ یہ ان کے لیئے روز مرہ کی زندگی کی حقیقت بن گئی ہے۔

ہم جب اس ماہر نفسیات کے ساتھ انٹرویو کی شوٹنگ کررہے تھے تو کسی نے قریب سے فائرنگ کیا۔ میں یہ نہیں بھول سکتا ہے کہ وہاں موجود کچھ مریض کتنے پریشان ہوگئے۔

تین سال قبل جب میں نے سعودی وزارت خارجہ کا انٹرویو کیا تھا میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ عراق پر حملے کے لیئے کیوں بضد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی سوال انہوں نے امریکی نائب صدر ڈِک چینی سے پوچھا تھا جن کا جواب تھا: ’کیوں کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔‘

اس میں کوئی شک نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح کے نقصانات سعودی وزیر خارجہ کی آنکھوں کے سامنے تین سال قبل واضح تھے ان کی نفی کرنا اب در حقیقت بہت مشکل ہے۔

جہادیوں کی نئی نسل
سی آئی اے: جہادیوں کی نئی نسل کا خطرہ ہے
امریکی فوجیں عراق میںبش جعفری ملاقات
بش اور جعفری ملاقات میں کیا زیرِبحث آیا؟
ابو مصعب الزرقویکم ترین بغاوت
عراق میں تین ہزار غیر ملکی شدت پسند
عراق نہ جائے ماندن نہ پائے. .
اتحادی فوجیں عراق سے نکلیں تو کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد