عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ تین سال قبل، عراق پر حملوں سے چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ میں قاہرہ کے ایک بڑے ہوٹل میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کا انٹرویو کررہا تھا۔ اس وقت انہوں نے ان خطرات کی نشاندہی کی جو حملے کے بعد پیدا ہوسکتے تھے۔ امریکی اور برطانوی فوجی عراق میں کئی برسوں کے لیئے پھنس جائیں گے۔ سنیوں اور شیعوں میں سِول وار ہوگی۔ اس سب سے فائدہ صرف اور صرف ایرانی حکومت کو ہوگا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جب آپ امریکیوں کو یہ بتاتے ہیں تو وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ سعود الفیصل نے کہا: ’وہ سنتے بھی نہیں۔‘ بغداد میں گزشتہ تین برسوں کے قیام کے دوران میں نے ان کی پیشین گوئیوں کو ایک ایک کرکے حقیقت میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی پہلی کڑی لوٹ مار تھی۔ جیسے ہی صدام حسین بغداد سے فرار ہوئے، عوام نے پرانے نظام کے ہر ایک نشان کو توڑنا شروع کردیا، اس بات کی پرواہ کیے بغیر کے اس کے نقصانات بھی ہوسکتے ہیں۔ میں نے لوگوں کے ہجوم کو دیکھا جو ایک ہسپتال پر دھاوا بولے ہوئے تھے، ایسا سامان بھی لوٹ کر لے جارہے تھے جو ان کے کسی کام کا تو نہ تھا لیکن ہسپتال چلانے کے لیئے ضروری تھا۔
اس وقت تک عراقیوں نے سوچا تھا کہ امریکہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور ان کی مدد کے لیئے یہاں آیا ہے۔ اسی وقت یہ تاثرات بدلنا شروع ہوگئے۔ اگلے ایک سال، تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ، آپ بغداد کا چکر لگا سکتے تھے، اور ملک کے دوسرے حصوں کا بھی دورہ کرسکتے تھے۔ جب ہم صحافتی ڈیوٹی پر اردن سے فلوجہ کے ذریعے سفر پر نکلے، یا کویت سے حلہ اور ناصریہ کے ذریعے بغداد کے لیئے روانہ ہوئے ہمیں کبھی کبھی تو خدشہ رہتا تھا لیکن ہم ہمیشہ منزل پر پہنچنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اب حالات یہ ہیں کہ سفر کرنے کا واحد ذریعہ طیارہ بچ گیا ہے۔ دیگر ذرائع ابلاغ کی طرح بی بی سی کا دفتر بغداد کے مرکز میں، ہائی سکیورٹی والے گرین زون میں نہیں۔ تاہم ہمارے دفتر پر انتہائی سکیورٹی ہے۔ اپریل دوہزارچار میں، فلوجہ پر امریکی حملے کے ساتھ، عراق میں سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ شہر چھوٹا ہے، لیکن مزاحمت کاروں پر کنٹرول حاصل کرنے میں وقت لگا۔ تاہم مکمل کامیابی نہیں ملی۔ امریکی آپریشن کی سفاکی نے عراق میں عوامی رائے غصے میں تبدیل کردی۔ بالکل اسی وقت عراقی سیاست دانوں کی بات نہ مانتے ہوئے امریکیوں نے ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے خلاف بھی کارروائی کردی۔ اس کے بعد سے مرکزی عراق کے شہر اور قصبے پرخطر ہوگئے۔ ہمیں ’آئی ای ڈی‘ کا لفظ بار بار سنائی دینے لگا، جس کا مطلب ہوتا ہے دستی بم۔
اگلا اہم موڑ تھا جنوری دوہزار پانچ کا الیکشن۔ چونکہ مزاحمت کاروں نے ووٹروں کی بڑی تعداد اور جوش و خروش دیکھا، اس لیئے تشدد کافی کم ہوگیا۔ مزاحمت کاروں نے انتظار کیا اس بات کا کہ کیا وہ نئی حکومت کے ساتھ کچھ کرسکتے ہیں۔ لیکن تین مہینوں تک کوئی حکومت وجود میں نہیں آئی، سیاست دان آپس میں لڑتے رہے، وقت گزرتا گیا۔ پھر کیا تھا، تشدد اپنے پرانے پیمانے پر لوٹ آیا۔ گزشتہ سال جولائی میں خانہ جنگی کی باتیں ہونے لگیں۔ پھر آئین پر ایک ریفرنڈم ہوا اور اس کے بعد انتخابات ہوئے، پھر بھی ایک مؤثر انتظامیہ عراقیوں سے کوسوں دور تھیں۔ دسمبر کے عام انتخابات کے چار ماہ بعد تک اب بھی عراق میں حکومت کا نام نہیں۔
خاموشی کے ساتھ لوگ ہجرت کررہے ہیں، ان علاقوں کے لیئے جہاں ان کے فرقے کی آبادی زیادہ ہے۔ سنیوں اور شیعوں میں شادیاں عام بات ہوتی تھیں لیکن اب شاید ہی کوئی اس طرح کی خبر سنتا ہے۔ بغداد کے ایک ہسپتال میں ذہنی امراض کے ایک ماہر نے مجھے بتایا کہ عراق میں ذہنی مریضوں کی تعداد آبادی کے تین فیصد سے کم ہوتی تھی لیکن اب یہ تعداد سترہ فیصد تک جاچکی ہے۔ نفسیات کے ایک دوسرے ماہر نے مجھے بتایا کہ صدام حسین کے دور میں بھی لوگوں پر آمریت کے اندر زندگی گزارنے کے اثرات پائے جاتے اور ان کے اندر ذہنی تناؤ کی سطح کافی زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے مریضوں اس نے دوسری شکل اختیار کرلی ہے: اب وہ تشدد اور زخم کے خطرے سے نہیں ڈرتے، بلکہ یہ ان کے لیئے روز مرہ کی زندگی کی حقیقت بن گئی ہے۔ ہم جب اس ماہر نفسیات کے ساتھ انٹرویو کی شوٹنگ کررہے تھے تو کسی نے قریب سے فائرنگ کیا۔ میں یہ نہیں بھول سکتا ہے کہ وہاں موجود کچھ مریض کتنے پریشان ہوگئے۔ تین سال قبل جب میں نے سعودی وزارت خارجہ کا انٹرویو کیا تھا میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ان کے خیال میں امریکہ عراق پر حملے کے لیئے کیوں بضد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی سوال انہوں نے امریکی نائب صدر ڈِک چینی سے پوچھا تھا جن کا جواب تھا: ’کیوں کہ ایسا کیا جاسکتا ہے۔‘ اس میں کوئی شک نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح کے نقصانات سعودی وزیر خارجہ کی آنکھوں کے سامنے تین سال قبل واضح تھے ان کی نفی کرنا اب در حقیقت بہت مشکل ہے۔ |
اسی بارے میں عراق میں ہزاروں کی نقل مکانی30 March, 2006 | آس پاس رائس، سٹرا عراق کے دورے پر02 April, 2006 | آس پاس الزرقاوی کو ہٹا دیا گیا: رپورٹ03 April, 2006 | آس پاس دستاویزات جعلی ہیں: صدام حسین05 April, 2006 | آس پاس بغداد: الزرقاوی کا ساتھی گرفتار06 April, 2006 | آس پاس عراقی خانہ جنگی کے پھیلاؤ کاخطرہ09 April, 2006 | آس پاس بغداد: خودکش حملے، 79 ہلاک07 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||