BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی ’مزاحمت‘ کی فلم بندی
رمادی
مزاحمت کاروں کو امریکی اور اس کے اتحادی اور حامی ذرائع شورشی کہتے ہیں
مغربی بغداد کے علاقے رمادی میں جیسے ہی امریکی ٹینک دکھائی دیے، سروں پر رومال باندھے سادہ کپڑوں میں ملبوس جنگجوؤں نے انہیں نشانے پر لیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عراق میں القاعدہ کا حصہ ہیں۔

’یہ امریکہ کے لیے پیغام ہے‘ ایک مزاحمت کار نے کیمرے کے لینز میں کہا۔ ان مزاحمت کاروں کو امریکی اور اس کے اتحادی اور حامی ذرائع شورشی کہتے ہیں۔

اس نے کہا ’دیکھو اپنی طاقت دیکھو، اس کے باوجود تم رمادی کی ان گلیوں میں داخل نہیں ہو سکتے، جو مجاہدین کی ہیں‘۔

اس کے بعد وہ ٹینک کی طرف متوجہ ہوا جو اب خاصی دور رکا ہوا تھا۔ ’میں خدا کی قسم کھا کے کہتا ہوں، ہم انہیں تباہ کر دیں گے‘۔ مزاحمت کار نے کہا۔

ہمیں یہ فلم عراق میں اتحادی طاقتوں کے خلاف نبرد آزما سنی شورش پر دستاویزی فلم بنانے کے دوران ملی۔

ہم نے مقامی سطح پر صحافیوں کے لیے کام کرنے والوں اور نامہ نگاروں سے کہا کہ کیا وہ کیمرہ اور سوالات لے کر سنی تکون کے علاقے میں مزاحمت کاروں کے پاس جا سکتے ہیں تا کہ وہ براہِ راست بات کر سکیں لیکن صرف چند ہی اس خطرناک کام کو قبول کرنے پر تیار ہوئے۔

یہ فلم ان ہی میں سے ایک کی بنائی ہوئی ہے جو سڑک پر کھڑی کی گئی رکاوٹیں عبور کر کے کیمرہ لے کر گیا اور یہ فلم بنا کر لایا۔

ابو غریب کی تصاویر کا کردار
 مزاحت کاروں کو ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی بد سلوکی کی تصاویر سے نئی توانائی حاصل ہوئی ہے اور انہیں نئے لوگوں کو حاصل کرنے میں سہولت حاصل ہوئی ہے

مزاحت کاروں کو ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی بد سلوکی کی تصاویر سے نئی توانائی حاصل ہوئی ہے اور انہیں نئے لوگوں کو حاصل کرنے میں سہولت حاصل ہوئی ہے۔

صحافی مائیکل ویر نے ہمیں بتایا کہ ’اس بارے میں مجھے کئی مزاحمت کاروں نے خود بتایا‘۔

ان کے مطابق مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ ’ہماری اگلی نسل ہم سے بھی زیادہ سخت گیر ہو گی اور عراق میں اس جنگ سے القاعدہ کو یہی فائدہ حاصل ہو رہا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے ’بش انتظامیہ القاعدہ کی اگلی نسل کی دائی ہے اور یہ وہ نسل ہے جس کی صورت گری الزرقاوی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں‘۔

سنی مزاحمت کاروں اور ان کے ارتقا کے بارے میں دستاویزی فلم بنانے کا روایتی طریقوں پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ مزاحت کاروں سے ہمارے رابطے کے دو طریقے تھے۔

ان میں ایک ذریعہ تو دو صحافی تھے جن میں سے ایک مائیکل ویر تھے جن کے شروع ہی سے مزاحمت کاروں میں شامل مختلف لوگوں سے رابطے ہیں۔ دوسرے غیث عبدالاحد جنہوں نے جنگ میں شریک غیر ملکیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے پورے مشرقِ وسطٰی کا سفر کیا ہے۔

ہمارا دوسرا ذریعہ یہ تھا کہ ہم امریکی اتحادی افواج کے ساتھ تھے اور جہاں کہیں وہ جاتے ہم ان کے ساتھ جاتے اور ان کی کارروائی اور جوابی مزاحمت کی فلم بندی کرتے۔

وہ افسر جن سے ہم نے اس بارے میں بات کی اس مسئلے پر بالکل واضح تھے وار انہیں حالات کے حقائق کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ یہ سب ماضی کی ایسی غلطیوں کا نتیجہ ہے جن کے توقع نہیں کی جا رہی تھی۔

ایک مزاحمت کار کا کہنا ہے کہ ’ہماری اگلی نسل ہم سے بھی زیادہ سخت گیر ہو گی

لیکن ہم نے اس سے کیا سیکھا ہے؟ یہ کہ عراقی فوج اور بعث پارٹی کو ختم کرنا ایک بہت ہی بڑی غلطی تھا۔ جب جنگ ختم ہوئی تھی تو وہ ایک ایسا وقت تھا جب لوگوں کو ساتھ ملانے کی پالیسی زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتی تھی۔

اس وقت عراقی مزاحمت تین اہم گروپوں پر مشتمل ہے اول غیر ملکی عناصر جن کی قیادت ابو مصعب الزرقاوی کے ہاتھوں میں ہے۔ سابق عراقی فوجی اور بعث پارٹی کے ارکان، اور عراق کے اسلامی قوم پرست۔

اب یہ مزاحمت ایک باقاعدہ شکل اختیار کرتی اور موثر ہوتی جا رہی ہے۔

’قوم پرست مزاحمت‘ کے ایک نمائندے ابو محمد نے ہمیں بتایا کہ ’فلوجہ مزاحمت میں تغیر کا ایک لمحہ تھا۔ فلوجہ ہی مزاحمت کاروں کےلیے ایک محفوظ علاقے بنا اور اسی عرصے میں جب ان تمام گروپوں باہمی رابطے اور تعلقات استوار ہوئے اور بہت سے شہر مکمل طور پر ان کے اثر میں آ گئے۔

ہم شام کی سرحد سے ملحقہ عراق کے شمالی علاقے تلفار کے علاقے بھی گئے اور اس علاقے میں ان رہائشی سے بات کی جو اس وقت انتہائی ہولناک حالات سے گزرے جب اس علاقے کا کنٹرول القاعدہ کے ہاتھ میں تھا۔

ایک رہائشی نے بتایا ’انہوں نے میرے بھائی کے پیٹ میں دو گولیاں ماریں۔ اس کے بعد انہوں نے اس کا پیٹ پھاڑ کر اس میں دھماکہ خیز مادہ بھر دیا۔ اس کے بعد جب میرے والد اسے اٹھنے گئے تو انہوں نے میرے والد کو بھی اڑا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کا سر کاٹا اور اسے ان کے دھڑ پر رکھ دیا‘۔

شورشیوں میں غیر ملکیوں کا تناسب صرف پندرہ فی صد ہے لیکن ان کا اثر بے پناہ ہے۔

انہوں نے عراق کے سابق فوجی افسروں کو افرادی قوت، پیسے اور اسلحہ فراہم کیا اور حقوق سے محروم عراقیوں کو ایسے نظریہ دیا جو ان کے حالات سے ہم آہنگ تھا۔

ایک مزاحمت کار کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود رمادی کی گلیوں میں داخل نہیں ہو سکتا

تو کیا اگر امریکہ اور اس کے اتحادی نکل جائیں تو عراق کے حالات بہتر ہو جائیں گے؟

شاید ، لیکن شورشیوں کے با اثر ہونے کا ایک محرک ختم ہو جائے گا۔

اب محمد کا کہنا ہے ’ کسی بھی بیرونی طاقت کے خلاف مزاحمت ایک فطری ردِ عمل ہے۔ تاریخ قبضے کرنے والے تمام لوگوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خود مجھے اور میرے ملک کے لوگوں کو قبضہ ایک توہین محسوس ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا ’کیونکہ میں ایک افسر ہوں اس لیے اس قبضے کو ختم کرانے کی ذمہ داری میرے کاندھوں پر بھی ہے‘۔

اس کے برخلاف ایک عراقی افسر کا کہنا تھا کہ ’اگر امریکی اور اتحادی فوجیں چلی گئیں تو آپ بھول جائیں کے عراق کے نام کا کوئی ملک تھا۔ یہاں گلی گلی میں خون خرابہ ہو گا، شیعہ سنیوں کو اور سنی شعیوں کا ماریں گے۔ مسلمان عیسائیوں کو ماریں گے اور عیسائی مسلمانوں کو۔ عرب کردوں کو قتل کر رہے ہوں گے اور کرد عربوں کو۔ اس لیے اتحادی فوجوں کا عراق میں موجود رہنا بہت اہم اور ضروری ہے‘۔

عراقی لڑکے کا فنعراقی لڑکے کا فن
معذور عراقی لڑکے کی تصاویر کی نمائش
عراق نہ جائے ماندن نہ پائے. .
اتحادی فوجیں عراق سے نکلیں تو کیا ہوگا؟
عراقانعام کے لیے نامزد
حملے کا حال لکھنے والی گمنام عراقی بلاگر
صحافیرپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز
عراق میں 3 سال میں 86 صحافی ہلاک ہوئے
عراقعراق: مایوس کہانی
عراق ناقابل یقین الجھاؤ کا شکار ہے: امریکی اہلکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد