BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رائس کی مسلم رہنماؤں سے ملاقات
سیکرٹری رائس جمعہ کو طالب علموں سے ملاقات کررہی ہیں
امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس انگلینڈ کے دورے کے دوسرے روز اپنے ہم برطانوی منصب جیک سٹرا کے انتخابی حلقے بلیک برن میں مسلم رہنماؤں سے ملاقات کررہی ہیں۔ سیکرٹری رائس سنیچر کو مسلم رہنماؤں سے ملنے کے علاوہ بلیک برن کا گرجاگھر اور قریبی شہر لیورپول میں مرسی سائیڈ میری ٹائم میوزیم بھی دیکھنے جائیں گی۔

برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کے انتخابی حلقے میں مسلم ووٹروں کی تعداد کافی ہے اور جمعہ کو انہیں جنگ مخالف مظاہرین کا سامنا رہا۔ سیکرٹری رائس نے کہا کہ انہیں جنگ مخالف مظاہروں پر کوئی تعجب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا: ’عوام کو مظاہرے کرنے کا حق ہے، یہی تو جمہوریت ہے۔‘

وہ سنیچر کو مسلم رہنماؤں کے علاوہ بلیک برن کے شہری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی۔ لیکن بلیک برن کے مساجد کے رہنماؤں نے اپنی وہ دعوت واپس لے لی ہے جس کے تحت رائس کو مسجد دیکھنے جانا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سنیچر کے روز بھی سیکرٹری رائس کو جنگ مخالف مظاہروں کو سامنا رہے گا۔ جمعہ کو برطانوی تھِنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے زیرتحت ایک تقریر کے دوران سیکرٹری رائس نے تسلیم کیا کہ امریکہ سے عراق میں ہزاروں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں لیکن انہوں نے عراق پر امریکی حملے کو صحیح قرار دیا۔

تقریر کے بعد حاضرین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’میں جانتی ہوں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں، یقیناً ہزاروں کے حساب سے۔ ‘ انہوں نے مزید کہا: ’لیکن اگر آپ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ آیا آپ نے صحیح حکمت عملی اپنائی یا نہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ صدام حسین کو ہٹانے کا فیصلہ ایک درست فیصلہ تھا کیونکہ وہ عالمی برادری کے لیئے ایک خطرہ بنتا جارہا تھا۔‘

تقریر کے دوران کونڈولیزا رائس نے امریکی خارجہ پالیسی کے جن پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل ہیں:-

اول یہ کہ کسی کو بھی عدل و انصاف اور آئین کی بالادستی سے امریکی کی وابستگی شک نہیں ہونا چاہیے۔

دوم یہ کہ امریکہ کو دنیا بھر کا بڑا جیلر بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ گرفتار شدہ ’دہشت گردوں‘ پر مقدمے چلائے جائیں۔

سوم یہ کہ آزادی کا فروغ آج امن کے لیئے سب سے بڑی امید ہے۔

چہارم یہ کہ امریکہ ایران کے جوہری بحران کے سلسلے میں طاقت کے استعمال کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صدر بش کسی آپشن کو بھی اپنے ایجنڈے سے باہر نہیں کرتے۔

امریکی وزیر خارجہ برطانیہ کے شمالی مغربی حصے کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ اس دورے کے دوران وہ بلیک برن سے دارالعوام میں رکن اور برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا کی مہمان ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد