اسرائیل کی امریکی حمایت کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ امریکہ قدیمہ پارٹی کی سرحدوں کے تعین کی یک طرفہ پالیسی کی حمایت کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔ قدیمہ پارٹی نے اس ہفتہ ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں اکثریتی جماعت کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ کونڈا لیزا رائس نے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا کہ اسرائیل فلسطین سے اس معاملے پر مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی اپنی سرحدوں کا تعین کر سکتا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یقینا ہر شخص اس معاملے کا حل بات چیت کے ذریعے طے ہوتے دیکھنے کا خواہش مند ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ فلسطینیوں نے ایک ایسی حکومت کو منتخب کیا ہے جو مذاکرات کی مخالف ہے‘۔ مسقتبل میں بننے والی اسرائیلی پارلیمنٹ میں قدیمہ اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئے گی تاہم اسے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم دو اتحادیوں کی ضرورت ہے۔ سرکاری طور پر اتوار کو مخلوط حکومت کی تیاری کے لیے کوششیں شروع ہو جائیں گی۔ | اسی بارے میں سرحد کیلیے یکطرفہ انخلاء: اسرائیل05 March, 2006 | آس پاس اسرائیل کو خفیہ مذاکرات کی تجویز24 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: ووٹ ڈالنے کا تناسب کم28 March, 2006 | آس پاس اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت29 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||