جل کیرول نے بیان بدل لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں بیاسی روز تک یرغمال رکھی جانے والی امریکی صحافی جل کیرول نے کہا ہے کہ انہیں اغوا کاروں نے پروپیگنڈا ویڈیو بنانے کے لیئے مجبور کیا تھا۔ امریکی صحافی نے کہا کہ ان کی رہائی سے قبل انٹرنیٹ پر ریلیز کیے جانے والا انٹرویو ان کے خیالات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے عراقی مزاحمت کاروں کی تعریف اور صدر بش پر تنقید کی تھی۔ جل کیرول نے کہا کہ اغواکاروں نے کہا تھا کہ انہیں صرف اس وقت رہا کیا جائے گا جب وہ ویڈیو بنوانے کے لیئے رضامندی کا اظہار کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ تین مہینے کی حراست میں انہیں کئی بار دھمکیاں دی گئیں۔ اس سے پہلے انہوں نے کہا تھا کہ ان کہ اغوا کاروں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا۔ جل کیرول کے اغوا کارروں کا مطالبہ تھا کہ عراقی جیلوں میں قید تمام خواتین کو رہا کر دیا جائے۔ کرسچیئن سائنس مانیٹر اور کئی دوسرے مغربی جرائد کے لیے کام کرنے والی صحافی جل کیرول کو جنوری کے پہلے ہفتے میں اس وقت بغداد سے اغوا کیا گیا تھا جب وہ سنی اتحاد کے لیڈر عدنان دولیمی سے ملاقات کے لیئے جا رہی تھیں۔اٹھائیس سالہ جل کیرول پچھلے تین سال سے عراق سے رپورٹنگ کر رہیں تھی۔ | اسی بارے میں عراق:اغوا امریکی صحافی رہا30 March, 2006 | آس پاس عراق: حملوں میں 80 افراد ہلاک05 January, 2006 | آس پاس بش عراق میں ہار مان لیں: الظواہري 06 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||