عراق کے تین مایوس کن سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی قبضے کو تین سال پورے ہوئے۔ گزشتہ واقعات پر نظر ڈالی جائے تو کئی دردناک سوال سامنے آجاتے ہیں کہ حالات کو کیسا ہونا چاہیئے تھا اور درحقیقت کیا ہوا؟ منصوبے کے مطابق اب تک عراق کو ایک پرامن، جمہوری اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرنا چاہیئے تھا جو دنیا کے آمروں کے لیئے سبق آموز ثابت ہوتا۔ اور امریکی قبضہ اب تک ماضی کا ایک قصہ بن چکا ہوتا۔ تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔ ملک میں کوئی مناسب اور موثر حکومت نہیں ہے۔ مزاحمتی کارروائیاں بہت بڑھ چکی ہیں۔ فرقہ واریت بڑھ گئی ہے جبکہ غیر ملکی فوج اب بھی عراقی سرزمین پر موجود ہے۔ ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ مرنے والوں کی اصل تعداد کیا ہے۔ بس اندازے ہی ہیں۔ شاید تیس ہزار یا شاید اس سے زیادہ۔ برطانوی جریدے ’دی لینسٹ‘ کے مطابق اکتوبر 2004 میں مرنے والوں کی تعداد ایک تقریباً ایک لاکھ تھی۔ عام زندگی ابھی تک معمول پر نہیں لوٹ سکی۔
تصویر کا روشن پہلو دیکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ ایسا ہی نظریہ ایک آرٹیکل میں امریکی فوج کے ایک افسر رالف پیٹرز نے پیش کیا ہے۔ ’بغداد کے حالیہ دورے میں میں نے بہت سی ناکامیاں دیکھیں۔ میڈیا کے مطابق۔ اصل صورتحال ایسی نہیں ہے جیسا کہ امریکی عوام کو میڈیا بتاتا ہے۔ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جو ملک میں پیش رفت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ عراقی اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود سنبھالنے پر زور دے رہے ہیں۔ عراقی عوام امن چاہتے ہیں لیکن غیر ملکی ذرائع ابلاغ صورتحال کا استحصال کررہے ہیں اور تخریبی کردار ادا کررہے ہیں‘۔ دوسری جانب تصویر کا تاریک پہلو دیکھنے والوں کا خیال ہے کہ حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جان کول کا خیال کچھ ایسا ہی ہے۔ وہ روز ہونے والے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’پیر سے اب تک بغداد میں اسی لاشیں مل چکی ہیں۔ صرف منگل کو 46 لاشیں ملی تھیں۔ کچھ ایک منی بس پر تھیں اور کچھ ایک اجتماعی قبر میں اور وہ قبر بھی اس وقت دریافت ہوئی جب کچھ افراد نے زمین پر خون کا تالاب دیکھا۔ زمین سے ابلتا ہوا خون عراق کی صورتحال کی صحیح عکاسی کرتا ہے‘۔ عراق میں گزشتہ تین سال پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حالات ابتدا ہی سے مشکل تھے۔ امریکہ و برطانیہ کی حکومتیں تصویر کے روشن پہلو پر ہی زور دیتی رہیں۔
مئی میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بصرہ کا دبورہ کیا تھا۔ انہوں نے عراق کے مستقبل کے بارے میں روشن خیالی کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی فوجیوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ ایک یا دو سال میں ممکن ہوسکے گا کہ آپ میں سے کچھ یہاں کا دورہ کریں اور خود یہ دیکھ سکیں کہ آج یہاں آپ نے جوکچھ کیا ہے اس سے کتنی مثبت تبدیلیاں آچکی ہوں گی۔‘ کچھ فوجی تو واقعی دوبارہ بھیجے گئے ہیں۔ لیکن اب عراق میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے سے بھی ابتر ہے۔ لیکن برطانیہ کے خفیہ کاغذات سے افشا ہونے والی معلومات کے مطابق اندرونی کہانی کچھ اور تھی۔کوبرا ٹو نامی ایک کتاب میں یہ معلومات شائع کی گئی ہیں۔ برطانوی دفتر خارجہ کے ایک اعلٰی اہلکار جان سایر نے مئی ہی میں بلیئر سے عراق کی صورتحال کے بارے میں سوال کیا تھا جس کے بعد ان کی رائے تھی کہ عراق میں کوئی لیڈرشپ نہیں، کوئی لائحہ عمل نہیں، کوئی باہمی رابطہ نہیں، کوئی ڈھانچہ نہیں اور عام عراقیوں کو کوئی رسائی نہیں‘۔ انہوں نے تقریباً ہر چیز پر ہی تنقید کی تھی اور اسے ’ان بیلیویبل میس‘ یا ’ناقابل یقین الجھاؤ‘ قرار دیا۔ اب بھی عوام کو عراق کے بارے میں ان کے حالیہ نظریات کا علم نہیں۔ جان سایر عوام کے سامنے کھلے طور پر اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتے۔ آج کل وہ ایک اور مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں اور وہ ہے ایران کا جوہری پروگرام۔ افشا ہونے والی معلومات اشارہ دیتی ہیں کہ عراق میں حالات بالکل ابتدا ہی میں ایسے خراب ہوئے تھے کہ آج تک حل نہ ہوسکے۔ | اسی بارے میں ’آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے‘17 March, 2006 | آس پاس دستبردار ہونے کو تیار ہوں: جعفری16 March, 2006 | آس پاس عراقی بحران اور پارلیمان کا اجلاس 16 March, 2006 | آس پاس عراق پالیسی پر غور، پینل قائم16 March, 2006 | آس پاس سامرہ میں امریکہ کا بڑا فوجی آپریشن16 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||