’آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشتبہ عراقی مزاحمت کاروں اور غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف سامرہ میں کیا جانے والا فوجی آپریشن کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ جمعرات کے روز شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن میں پچاس سے زائد لڑاکا طیارے اور پندرہ سو عراقی اور امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی فوج نے بتایا ہے کہ پہلے دن کے اختتام پر چالیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور خاصی تعداد میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی وردیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ سن دوہزار تین میں عراق پر امریکی حملوں کے بعد سے یہ سب سے بڑا فضائی آپریشن بتایا گیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بتایا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد مزاحمت کاروں کو اس شہر کو شدت پسندی کے گڑھ میں تبدیل کرنے سے روکنا ہے۔ سامرہ میں کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق غیرجانبدار ذرائع سے نہیں ہورہی ہے۔ امریکی فوج نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عراقی فوجیوں کو صوبہ صلاح الدین میں اتارا جارہا ہے جہاں پینٹاگون کے مطابق اکتالیس افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ لڑاکا طیاروں سے کوئی میزائیل نہیں داغے گئے ہیں اور نہ ہی بم گرائے گئے ہیں۔ لیکن ان اطلاعات کی غیرجانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکی فوج کو اس آپریشن کے دوران کسی مزاحمت کا سامنا ہے یا نہیں۔ گزشتہ ماہ بغداد کے شمال میں سو کلومیٹر کی دوری پر واقع تاریخی روضہ عسکری پر بم حملے کے بعد اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے صحافی ایڈم بروک کا کہنا ہے کہ طاقت کے اس بڑے مظاہرے کے پیچھے یہ توقع ہے کہ اس کے ذریعے تشدد کے مسلسل جاری ان واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی جو خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ زیباری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب بھی مزاحمت کار یا دہشت گرد پاؤں جمانے کی کوشش کریں گے، یا ملک کے کسی حصے میں محفوظ ٹھکانہ بنانے کی کوشش کریں گے، تو آپ اتحادی افواج کی حمایت سے عراقی فورسز کا ایسا ہی ردعمل دیکھیں گے۔‘ بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان سرجنٹ سٹان لاویری نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم مزاحمت کاروں اور دہشت گردوں تک ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں، اور جتنا ممکن ہو گرفتار ہوسکیں اور مارے جائیں۔‘ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ال عسکری روضے پر حملے کے بعد سے سامرہ فرقہ وارانہ تشدد کا گڑھ بنتا جارہا تھا اور امریکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی جڑ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔ |
اسی بارے میں شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں25 February, 2006 | آس پاس سمارا کے تاریخی مینار کو نقصان01 April, 2005 | آس پاس فلوجہ پر بمباری، سمارا میں کارروائی02 October, 2004 | آس پاس عراق: فضائی حملے میں درجنوں ہلاک14 August, 2004 | آس پاس ’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘ 01 March, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||