BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے‘
پینٹاگون کے مطابق 1500 فوجی اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشتبہ عراقی مزاحمت کاروں اور غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف سامرہ میں کیا جانے والا فوجی آپریشن کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

جمعرات کے روز شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن میں پچاس سے زائد لڑاکا طیارے اور پندرہ سو عراقی اور امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

امریکی فوج نے بتایا ہے کہ پہلے دن کے اختتام پر چالیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور خاصی تعداد میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی وردیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

سن دوہزار تین میں عراق پر امریکی حملوں کے بعد سے یہ سب سے بڑا فضائی آپریشن بتایا گیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بتایا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد مزاحمت کاروں کو اس شہر کو شدت پسندی کے گڑھ میں تبدیل کرنے سے روکنا ہے۔

سامرہ میں کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق غیرجانبدار ذرائع سے نہیں ہورہی ہے۔ امریکی فوج نے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے عراقی فوجیوں کو صوبہ صلاح الدین میں اتارا جارہا ہے جہاں پینٹاگون کے مطابق اکتالیس افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ لڑاکا طیاروں سے کوئی میزائیل نہیں داغے گئے ہیں اور نہ ہی بم گرائے گئے ہیں۔ لیکن ان اطلاعات کی غیرجانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ امریکی فوج کو اس آپریشن کے دوران کسی مزاحمت کا سامنا ہے یا نہیں۔

گزشتہ ماہ بغداد کے شمال میں سو کلومیٹر کی دوری پر واقع تاریخی روضہ عسکری پر بم حملے کے بعد اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ عراق خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے صحافی ایڈم بروک کا کہنا ہے کہ طاقت کے اس بڑے مظاہرے کے پیچھے یہ توقع ہے کہ اس کے ذریعے تشدد کے مسلسل جاری ان واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی جو خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

عراقی وزیر خارجہ زیباری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب بھی مزاحمت کار یا دہشت گرد پاؤں جمانے کی کوشش کریں گے، یا ملک کے کسی حصے میں محفوظ ٹھکانہ بنانے کی کوشش کریں گے، تو آپ اتحادی افواج کی حمایت سے عراقی فورسز کا ایسا ہی ردعمل دیکھیں گے۔‘

بغداد میں امریکی فوج کے ترجمان سرجنٹ سٹان لاویری نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم مزاحمت کاروں اور دہشت گردوں تک ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کی کوشش کررہے ہیں، اور جتنا ممکن ہو گرفتار ہوسکیں اور مارے جائیں۔‘

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ال عسکری روضے پر حملے کے بعد سے سامرہ فرقہ وارانہ تشدد کا گڑھ بنتا جارہا تھا اور امریکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی جڑ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔

سماراسمارا کا مینار
سمارا میں ایک ہزار سال قدیم مینار کو نقصان
پارلیمان کا اجلاس
کیا نئی قیادت سیاسی استحکام قائم کرسکے گی؟
جان سمپسنتاریک عراق
امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی: جان سمپسن
عراق میں خانہ جنگی
کیا عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ؟
عراقی تقسیم ہوگئے
نتائج سے مزاحمت کار فائدہ اٹھا سکتے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد