’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے کے پُر تشدد واقعات کو نئی حکومت کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیں گے۔ اس ایک ہفتے میں فرقہ وارانہ تشدد میں چار سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کے روز مختلف حملوں میں ساٹھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ تشد کی یہ نئی لہر بدھ بائیس فروری کو سامرہ میں عسکری مزار پر بم حملے سے شروع ہوئی۔ عراقی وزیر اعظم نے یہ بیان ترکی کے دورے کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تشدد سے حکومت سازی اور سیاسی عمل کو مستحکم بنانے کی کوششیں نہیں رکیں گی۔ وزیر اعظم کے اس وقت غیر ملکی دورہ کرنے پر عراقی صدر جلال طالبانی نے سخت تنقید کی ہے۔ صدر طالبانی کُرد ہیں اور ان کا تعلق شمالی عراق سے ہے جبکہ وزیر اعظم کا تعلق ملک کے شعیہ فرقے سے ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ ابراہیم جعفری صرف عبوری وزیر اعظم ہیں اور ایسے میں انہیں دوسرے ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں25 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس عراق:روضےپرحملہ، امن کوشش جاری26 February, 2006 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||