BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 March, 2006, 04:28 GMT 09:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘
منگل کے بم دھماکے میں زخمی افراد
ایک ہفتے کی خونریزی میں چار سو سے زیادہ عراقی ہلاک ہوئے ہیں
عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے کے پُر تشدد واقعات کو نئی حکومت کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیں گے۔

اس ایک ہفتے میں فرقہ وارانہ تشدد میں چار سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ منگل کے روز مختلف حملوں میں ساٹھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

تشد کی یہ نئی لہر بدھ بائیس فروری کو سامرہ میں عسکری مزار پر بم حملے سے شروع ہوئی۔

عراقی وزیر اعظم نے یہ بیان ترکی کے دورے کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تشدد سے حکومت سازی اور سیاسی عمل کو مستحکم بنانے کی کوششیں نہیں رکیں گی۔

 صدر طالبانی کُرد ہیں اور ان کا تعلق شمالی عراق سے ہے جبکہ وزیر اعظم کا تعلق ملک کے شعیہ فرقے سے ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ ابراہیم جعفری صرف عبوری وزیر اعظم ہیں اور ایسے میں انہیں دوسرے ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے

وزیر اعظم کے اس وقت غیر ملکی دورہ کرنے پر عراقی صدر جلال طالبانی نے سخت تنقید کی ہے۔

صدر طالبانی کُرد ہیں اور ان کا تعلق شمالی عراق سے ہے جبکہ وزیر اعظم کا تعلق ملک کے شعیہ فرقے سے ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ ابراہیم جعفری صرف عبوری وزیر اعظم ہیں اور ایسے میں انہیں دوسرے ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

عراق میں خانہ جنگی
کیا عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد