’ایک بہادر حکومت کی ضرورت ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ ہفتے کے انتظار کے بعد جب عراقی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تو کسی کو بھی حیرت نہ ہوئی۔ عراقی سیاست میں فرقوں کا اثر اب صاف نظر آنے لگا ہے۔ نظریات پر قائم جماعتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان انتخابات میں عوام نے مذہبی یا نسلی بنیاد پر ووٹ ڈالے تھے۔ ان نتائج سے یہ بات واضح ہے کہ وہ عراق جہاں کے عوام شیعہ یا سنّی کے بجائے مسلمان کہلانا پسند کرتے تھے اب سیاست کے میدان میں تفرقے کا شکار ہو چکا ہے اور یہی وہ تفرقے کی دراڑیں ہیں جنہیں مزاحمت کار خلیج میں بدلنا چاہتے ہیں۔ اب دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نتائج کے بعد بننے والی عراقی حکومت کتنی پائیدار ہوگی۔ شیعہ اتحاد یونائیٹڈ عراقی الائنس اس الیکشن میں واضح برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے لیکن کرد اتحاد کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہ باآسانی حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔ سنّی گروہوں نے بھی پچاس سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں تاہم اس کے باوجود اس بات کوئی ضمانت نہیں کہ وہ مخلوط حکومت میں شام ہوں گے۔
انتخابات کے نتائج اس وقت تک مصدقہ اور حتمی تصور نہیں کیے جائیں گے جب تک تمام گروہ ان کا جائزہ لے کر ان پر اپنی رضامندی ظاہر نہ کر دیں۔ ان گروہوں کے پاس نتائج سے متعلق شکایات داخل کرنے کے لیے پیر تک کا وقت ہے۔ ان نتائج سے یہ بات واضح ہے کہ قومی اتحاد کی بنیاد پر حکومت بنانے کے خواہشمند افراد کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ کیونکہ شیعہ اتحاد کے کرتا دھرتا عبدالعزیز حکیم کی جانب سے دیے جانے والے اشارے حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جمہوریت ہے۔ ایک گروہ کی جیت ہوئی ہے تو دوسرے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک گروپ حکومت بنائے گا اور دوسرا اپوزیشن میں بیٹھے گا‘۔ عبدالعزیز حکیم کے خیالات سے تو نہیں لگتا کہ وہ اپوزیشن کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ اور نہ ہی ایسا لگتا ہے کہ وہ آئین پر نظرِثانی کریں گے۔ سو اب سوال یہ ہے کہ 55 سیٹیں جیتنے والی سنّی جماعتیں کیا کردار ادا کریں گی؟ بات اب سیاسی اتحادوں پر آ پہنچی ہے۔ یہ وہ کھچڑی ہے جو کئی ہفتوں سے پک رہی تھی اور اب اس کے تیار ہونے کا وقت آ پہنچا ہے۔
اگر شیعہ اور کرد مل کر اتحاد تشکیل دیتے ہیں تو سنّی جماعتوں کے پاس حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اور اگر وہ اپنی اس قسم سے خوش نہ ہوئے تو اس کا اثر مزاحمت کاروں کی کارروائیوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے اور یہ انتخابات جن پرتشدد واقعات کے خاتمے کے لیے منعقد ہوئے تھے ان میں تیزی آ سکتی ہے۔ حکومت کی تشکیل ہی واحد قابلِ غور مسئلہ نہیں بلکہ اگر ایک حکومت تشکیل پا بھی جاتی ہے تو اسے بھی مکمل فعال ہونے میں تین ماہ کا عرصہ لگے گا اور اتحادی حکومت ہونے کی صورت میں اس بات کا فیصلہ بھی آسان نہیں ہوگا کہ کس گروہ کو کون سے وزارت دی جائے۔ زیادہ تر عراقی قوم کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ کئی عشروں سے عراق میں شیعہ اور سنّی ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتحاد پارہ پارہ ہونے والا ہے۔ اس ٹوٹتے اتحاد کو بچانے کے لیے ایک بہادر حکومت کی ضرورت ہے۔ |
اسی بارے میں عراق: شیعہ اتحاد کی برتری20 January, 2006 | آس پاس عراق: حکومت سازی مذاکرات 21 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||