BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 21 January, 2006, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: حکومت سازی مذاکرات
حتمی نتائج کے بعد عراق میں شیعہ آبادی نے حثشی میں جلوش بھی نکالے
عراق میں پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد عراقی رہنما حکومت سازی کے لیے دشوار مذاکرات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کے لیے مطلوب اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔

جمعہ کو گزشتہ دسمبر میں ہونے والے انتخِابات کے حتمی نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جن کے مطابق اہلِ تشیع کے اتحاد نے دو سو پچھہتر میں سے ایک سو اٹھائیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

کرد جماعتوں کے اتحاد نے تریپن جبکہ سنی جماعتوں نے پچپن نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس طرح کسی بھی جماعت یا اتحاد کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ان انتخابات میں اہلِ تشیع کی سربراہی میں قائم ہونے والا عراق کا اتحاد سب سے بڑے فاتح گروپ کی صورت میں سامنے آئے گا۔
نتائج کے بعد عراق میں مخلوط حکومت کے قیام کا امکان ہے اور امریکہ نے تمام جماعتوں اور گروپوں سے کہا ہے کہ وہ مل کر کام کریں لیکن اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ تمام فیصلے عراقی جماعتوں کو خود کرنے چاہیں۔

کئی سنی سیاست دانوں نے ان انتخابات میں دھاندلی اور فراڈ کا الزام عائد کیا تھا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ان انتخابات کو چیلنج کریں گے۔

پروگرام کے مطابق جب ان نتائج کی توثیق ہو جائے گی تو صدر جلال طالبانی کو دو ہفتے کے اندر پارلیمنٹ کا اجلاس بلانا ہو گا اور اجلاس ایک ماہ کے اندر نئے صدر کا انتخاب کرے گا۔

اس کے بعد نئے صدر وزیراعظم کو نامزد کریں گے جنہیں ایک ماہ کے اندر کابینہ کے نام پیش کرنے ہوں گے۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان سن میکارمک نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عراق میں تمام جماعتیں اور گروپ مل کر کام کریں اور فرقہ وارانہ سوچ اور نسلی شناخت سے بالا ہو کر حکومت بنانے کے بارے میں سوچیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’عراقی عوام ان سے ایک ایسی مؤثر اور ذمہ دار حکومت کی توقع کر رہے ہیں جو ان کی ضروریات کی مطابق کام کرے‘۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شیعہ حکومت بنے گی لیکن اسے ایک اچھا اتحادی تلاش کرنا ہو گا۔

دوسرے طرف ایک سنی جماعت نے جس نے پارلیمنٹ میں گیارہ نششتیں حاصل کی ہیں ایک متحدہ حزبِ اختلاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسی بارے میں
عراق: شیعہ اتحاد کی برتری
20 January, 2006 | آس پاس
عراق: حکومت سازی کی کوششیں
14 February, 2005 | صفحۂ اول
عراق: ’141 مزاحمت کار ہلاک‘
10 September, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد