جِم موئیر بی بی سی، بغداد |  |
 | | | حالیہ دنوں میں ابراہیم الجعفری کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے |
حالیہ الیکشن میں منتخب ہونے والے عراقی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس آج جمعرات یعنی سولہ مارچ کو منعقد ہورہا ہے۔ اراکین پارلیمان ایسے وقت اجلاس میں شرکت کررہے ہیں جب عراق شدید بحران سے دوچار ہے، فرقہ وارانہ تشدد بڑے پیمانے پر ہورہا ہے اور ملک میں خانہ جنگی کی بات کی جانے لگی ہے۔ اس بات کا بڑا چرچا ہے کہ پارلیمنٹ کا یہ افتتاحی اجلاس مقررہ تاریخ سے تین دن پہلے ہورہا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عام انتخابات کو تین مہینے گزر چکے ہیں اور ووٹ دینے والوں کو ابھی ہفتوں انتظار کرنا پڑے گا تب ان کو نئی حکومت کی شکل نظر آئے گی۔ اس بارے میں تو سب کو اتفاق ہے کہ قومی اتحاد کی حکومت ہی ملک کو خانہ جنگی اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا سکتی ہے لیکن اس راہ میں اب بھی مشکلات حائل ہیں۔ خاص طور سے کلیدی عہدے یعنی وزارت عظمیٰ کے لیے شیعوں کی جانب سے پیش کردہ نام یعنی ابراہیم الجعفری پر اب بھی تعطل پایا جاتا ہے۔  | پارلیمنٹ کا اجلاس مؤثر ہوگا؟  حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی اجلاس اپنا سپیکر بھی منتخب نہیں کرسکے گا کیونکہ سپیکر کا عہدہ بھی اُس پیکج کا حصہ ہے جس پر تمام فریقوں کو اتفاق کرنا ہے۔  |
دوسرے تمام فرقے ابراہیم الجعفری کو نہیں چاہتے اور ان فرقوں کے بغیر وہ حکومت نہیں بنا سکتے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی اجلاس اپنا سپیکر بھی منتخب نہیں کرسکے گا کیونکہ سپیکر کا عہدہ بھی اُس پیکج کا حصہ ہے جس پر تمام فریقوں کو اتفاق کرنا ہے۔ چنانچہ یہ اجلاس صرف ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے لیے ہورہا ہے جس میں پارلیمانی ارکان حلف اٹھائیں گے۔ تاہم چونکہ آئین کہتا ہے کہ سپیکر کا انتخاب پہلے اجلاس میں ہو جانا چاہیۓ اس لیے غالباً یہ ترکیب کی جائے گی کہ اس اجلاس کو غیر معین مدت کے لیے کھلا اجلاس کہہ دیا جائےگا، یعنی یہ فرض کرلیا جائے گا اجلاس متواتر جاری ہے۔اگرچہ یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ قدم آگے کی جانب اٹھ رہے ہوں لیکن سیاسی ذرائع کہتے ہیں کہ جو زور دار بحث مباحثہ جاری ہے اس میں کچھ مثبت پہلو نظر آنے لگے ہیں۔ جس کی ایک وجہ امریکیوں کا بھر پور دباؤ ہے جو ذہنوں کو مجبور کررہا ہے کہ حل نکالنے کے لیے پوری توجہ صرف کریں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک نظریہ جس پر اصولی طور پر اتفاق رائے ہوچکا ہے ایک نئی رہبر کونسل کا قیام ہے جس میں صدر، وزیر اعظم، پارلیمنٹ کے سپیکر، مقننہ کے سربراہ اور سیاسی رہنما شامل ہوں۔ اس رہبر کونسل کا کام کیا ہوگا اور نام کیا رکھا جائے گا یہ ابھی طے نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر ایسی کوئی کونسل وجود میں آجاتی ہے تو ممکن ہے کہ اِس بحث کی گرما گرمی کچھ ماند پڑ جائے کہ وزیر اعظم کون ہوگا۔ |