BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 March, 2006, 09:45 GMT 14:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق میں واقعی الجھن ہے‘
کم ہاولز
ہاولز کا کہنا ہے کہ عراق خانہ جنگی کی جانب نہیں بڑھ رہا
برطانیہ کے وزیر کم ہاولز نے تسلیم کیا ہے کہ عراق میں حالات واقعی خراب ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ عراق کا مستقبل اس صورتحال سے بہتر ہے جو ذرائع ابلاغ پیش کر ہے ہیں۔

کم ہاولز عراقی تیل کی صنعت کا جائزہ لینے کے لیئے ان دنوں عراق کے دورے پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق واقعی ’ایک دردناک مرحلے سے گزر رہا ہے‘۔ انہوں نے عام عراقی شہریوں کی جانب سے حالات کا مقابلہ کرنے کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ عراق اب دوسرے ملکوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ عراق کو ایک الجھن کے طور پر بیان کرتے ہیں‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ الجھن اب ایران پر حملہ نہیں کر سکتی، کویت پر قبضہ نہیں کر سکتی، جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتی۔ ٹھیک ہے کہ یہ ایک الجھن ہے لیکن اب یہ ایک ایسی الجھن ہے جیسی الجھنوں میں ہم سب رہ رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے وہ ذرائع ابلاغ میں نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سنتا رہا ہوں کہ شام کو یا اگلی صبح ملک میں خانہ جنگی ہونے والی ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے اب تک خانہ جنگی نہیں ہوئی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں عراق کے لوگوں پر اعتماد کرنا ہو گا تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ جو لوگ خود کش حملوں، اغواء کی وارداتوں اور دوسرے حربوں سے خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کا ایک خاص مقصد ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کو عراق سے بری خبروں کے ساتھ اچھی خبریں بھی لینا چاہئیں۔ انہوں نے امریکی قدامت پسندوں کی جانب سے حالیہ تنقید کو رد کیا اور کہا کہ ’مجھے امریکی دائیں بازو کے لوگوں سے رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے اور مجھے حیرت ہو گی کہ اگر ایسا کبھی ہوا ہو‘۔

نورمن کیمبر
کیمبر کو اغواء ہوئے سو دن سے زائد ہو چکے ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ عراق کی جمہوریت اور قوم کی جحالی کے لیئے لڑتے رہیں گے بلکہ ان کے مقابلے میں بائیں بازو کے لوگ ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ ایسا کام ہے جسے کرنا ہو گا۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن سے ہمیں نمٹنا ہو گا۔ یہ اہم معاملات ہیں اور ہمیں ان پر کام شروع کر دینا چاہیئے‘۔

کم ہاولز نے عراقی گروپوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امن کے لیئے کام کرنے والے برطانوی شہری کو رہا کر دیں جنہیں اغواء ہوئے سو دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور جن کے ساتھی ٹام فوکس کی لاش جمعہ کے روز بغداد سے ملی ہے۔ اس سوال پر کہ کیا ٹام کی لاش ملنے سے کیمبر کے بچنے کی امید کم ہو گئی ہے، ہاولز کا کہنا تھا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ دوسروں کی مدد کرنے کے بارے میں پر عزم تھے اور ہم اب بھی اغوا کاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ انہیں چھوڑ دیں۔ یہ بہت پریشانی کی بات ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد