BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 03:01 GMT 08:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: 13 مزاحمت کاروں کو پھانسی
عراق
22 فروری کے بعد سے اب تک 400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی رشےدار خاتون اظہار غم کر رہی ہے
عراق میں تیرہ مزاحمت کاروں کو حکومت کے بقول سورش میں حصہ لینے پر پھانسی دی گئی ہے۔ عراق میں امریکہ کی سالاری میں کی جانے والی دراندازی کے بعد کسی کو پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

حکومت نے ان پھانسی پانے والوں میں سے صرف ایک کی شناخت بتائی ہے اور اس کے بارے میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ عراق کے شہر موصل کا ایک سابق پولیس اہلکار تھا۔

حکومتی ذرائع کا کہنا کہ شکیر فرید نامی اس شخص نے مبینہ طور اپنے جرائم کا اعتراف کرتے بتایا تھا کہ اس نے شام سے آنے والے شدت پسندوں کا ساتھ دیا تھا۔

اس سے پہلے عراق امریکہ کے ایک انتہائی سینئر جنرل نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دو روز قبل بغداد سے ایک نجی کمپنی کے جن افراد کو نامعلوم افراد لے گئے تھے انہیں اغوا کیا گیا ہے۔

جنرل رک لنچ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو جن لوگوں نے اغواء کیا ہے انہوں نے پولیس ہی کی یونیفارم پہنی ہوئی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس میں عراقی سکیورٹی فورسز کا کوئی حصہ ملوث نہیں ہے۔

ان مغویوں کے بارے میں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے اغوا کیا اور کیوں اغواء کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد