عراق: 13 مزاحمت کاروں کو پھانسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تیرہ مزاحمت کاروں کو حکومت کے بقول سورش میں حصہ لینے پر پھانسی دی گئی ہے۔ عراق میں امریکہ کی سالاری میں کی جانے والی دراندازی کے بعد کسی کو پھانسی دیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ حکومت نے ان پھانسی پانے والوں میں سے صرف ایک کی شناخت بتائی ہے اور اس کے بارے میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ عراق کے شہر موصل کا ایک سابق پولیس اہلکار تھا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا کہ شکیر فرید نامی اس شخص نے مبینہ طور اپنے جرائم کا اعتراف کرتے بتایا تھا کہ اس نے شام سے آنے والے شدت پسندوں کا ساتھ دیا تھا۔ اس سے پہلے عراق امریکہ کے ایک انتہائی سینئر جنرل نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دو روز قبل بغداد سے ایک نجی کمپنی کے جن افراد کو نامعلوم افراد لے گئے تھے انہیں اغوا کیا گیا ہے۔ جنرل رک لنچ کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو جن لوگوں نے اغواء کیا ہے انہوں نے پولیس ہی کی یونیفارم پہنی ہوئی تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس میں عراقی سکیورٹی فورسز کا کوئی حصہ ملوث نہیں ہے۔ ان مغویوں کے بارے میں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس نے اغوا کیا اور کیوں اغواء کیا۔ | اسی بارے میں عراق: انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں 09 March, 2006 | آس پاس ’عراق: بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا‘08 March, 2006 | آس پاس عراق: 50 سکیورٹی اہلکار اغواء08 March, 2006 | آس پاس عراق میں امید کی کوئی کرن نہیں06 March, 2006 | آس پاس ’عراق جنگ،فیصلہ خدا نے کرایا‘04 March, 2006 | آس پاس بغداد میں عراقی جنرل کا قتل07 March, 2006 | آس پاس بغداد، منی بس سے 18 لاشیں برآمد08 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||