بغداد، منی بس سے 18 لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس حکام کے مطابق مغربی بغداد میں ایک منی بس سے اٹھارہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں جنہیں یا تو گولی مار کر یا پھر گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق گشت پر موجود ایک سکیورٹی پٹرول کو یہ بس عامریہ اور خادرہ ضلعوں کی درمیانی سڑک پر کھڑی ملی۔ لاشوں کو رسیوں سے جکڑا ہوا تھا جبکہ ان کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی تھی۔ بس پر کوئی زندہ شخص موجود نہ تھا۔ سمارا میں 22 فروری کو ایک شیعہ مسجد پر حملے کے بعد سے عراق میں فرقہ وارانہ فسادات میں کافی تیزی آگئی ہے تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان حالیہ ہلاکتوں کا تعلق بھی فرقہ وارانہ کشیدگی سے ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تشدد کرکے ہلاکتیں کرنے کا انداز شیعہ سنی مسلح گروپوں کی کارروائیوں سے مشابہ ہے۔ عامریہ میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لاشوں کے پاس سے کوئی شناختی دستاویزات برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ یرموک ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد میں سے دو کو گولی ماری گئی ہے جبکہ بقیہ کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ سمارا کے بعد ہونے والے فسادات میں22 فروری سے اب تک 400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ حالات ملک کو خانہ جنگی کی طرف نہ لے جائیں۔ عراق میں امریکی سفیر ظلمے خلیلزاد کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پھیلانا ہے۔ ’یہ خانہ جنگی چھیڑنے کی بھرپور کوشش ہے‘۔ دسمبر کے انتخابات کے بعد عراق کی پارلیمان کا پہلا اجلاس اتوار کو متوقع ہے۔ عبوری وزیر اعظم ڈاکٹر جعفری کردوں، سنیوں اور امریکیوں کے لیئے ناقابل قبول ہیں۔ ابھی بھی ایسا کوئی امیدوار نہیں جو سب کے لیئے قابل قبول ہو۔ | اسی بارے میں عراقی: بم دھماکے میں سات ہلاک04 March, 2006 | آس پاس بغداد میں گاڑی چلانے پر پابندی03 March, 2006 | آس پاس بغداد میں بندوق کا راج02 March, 2006 | آس پاس ’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘ 01 March, 2006 | آس پاس عراقی: بم دھماکے میں سات ہلاک02 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||