بغداد میں گاڑی چلانے پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی دارالحکومت بغداد میں بڑھتے ہوئے تشدد پر قابو پانے کے لیے ایک دن کے لیے شہر میں گاڑیاں چلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔البتہ لوگوں کو پیدل چلنے کو اجازت ہے۔ عراقی حکومت نے پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کسی بھی پرائیوٹ گاڑی کو چلنے کی اجازت نہ دے۔ عراق میں تشدد کی لہر جاری ہے اور جمعہ کے روز بھی عراقی دارالحکومت سے اٹھارہ لاشیں ملی ہیں۔ پچھلے ہفتے سامرا میں شیعہ مزاروں پر حملے کے بعد سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو نہراوان کے باشندوں نے بتایا ہے کہ پچاس مسلح افراد کے ایک گروہ نے جمعرات کی رات کو ان کی آبادی پر حملہ کر دیا۔ اس حملہ کے بعد پولیس کو سینتالیس لوگوں کی لاشیں ملی تھیں۔ عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے مسجدوں کے اماموں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اشتعال پھیلانے والی تقریروں سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ ملک مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک مہینہ پہلے بھی شیعہ سنی فسادات پر قابو پانے کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بغداد میں تین دھماکے، 26 ہلاک01 March, 2006 | آس پاس ’صرف میں ہی جوابدہ ہوں: صدام01 March, 2006 | آس پاس ’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘ 01 March, 2006 | آس پاس بغداد دھماکے، کم از کم پچاس ہلاک28 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||