بغداد میں تین دھماکے، 26 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں تین بم دھماکوں ہوئے ہیں جن میں کم از کم چھبیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ امریکہ کے ملٹری انٹیلجنس چیف نے خبردار کیا ہے کہ تشدد کی اس تازہ لہر سے ملک پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ تین میں سے ایک بم دھماکہ شہر کے مشرقی حصے جدیدہ کے علاقےمیں واقع ایک چیک پوسٹ پر ہوا جس میں بیس افراد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ چیک پوسٹ منگل کو ہونے والے بم دھماکوں کے مقام میں سے ایک کے قریب ہے۔ منگل کو بغداد کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد کی لہر میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے۔ اس دھماکے کے ایک گھنٹے کے بعد ہی شہر کے مرکزمیں واقع ایک مارکیٹ میں کھڑی کار میں ایک اور بم دھماک ہوا جس میں تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ بم اس علاقے میں گشت پر معمور پولیس کے دستے کو ہلاک کرنےکے لیے نصب کیا گیا تھا۔ تیسرا دھماکہ شہر کے مشرقی حصے میں ہوا تاہم اس میں کسی جانی تقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ منگل کو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ دار شہر کے مردہ خانے سے لاشیں حاصل کرنے کے لیے آ رہے تھے۔ حکام کےشہر میں دن کے وقت لگائے جانے والے کرفیو کےاٹھانے کے بعد سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو سانحۂ سامرہ کے بعد بغداد شہر میں کرفیو لگا دیا گیا تھا۔ عراق میں اقوام متحدہ کے سفیر امیر شیخ صومادی کا کہنا ہے کہ صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ امریکہ کے ملٹری انٹیلجنس چیف لیفٹینٹ جنرل مائیکل میئرز نےواشنگٹن میں سینٹ کی آرمڈ کمیٹی کو بتایا کہ ’میں یقین سے کہتا ہوں کہ ہم اس وقت انتہائی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں‘۔ |
اسی بارے میں عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع23 February, 2006 | آس پاس کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان24 February, 2006 | آس پاس بغداد دھماکے، کم از کم پچاس ہلاک28 February, 2006 | آس پاس عراق: مفاہمتی مذاکرات، 16ہلاک26 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||