BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 February, 2006, 18:58 GMT 23:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد دھماکے، کم از کم پچاس ہلاک
عراق
سب سے زیادہ جانی نقصان پٹرول پمپ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ہوا
عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں میں ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم پچاس ہوگئی ہے جبکہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔ جنوبی عراق میں ایک بم دھماکے میں دو برطانوی فوجی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔

تازہ ترین کار بم حملہ بغداد کے شمال میں اہل تشیع کی ایک مسجد کے نزدیک کیا گیا ہے جس میں پندرہ افراد ہلاک اور کئی زخمی بتائے جارہے ہیں۔

بغداد میں اس سے قبل کئے گئے چار بم حملوں میں 35 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان دھماکوں کے چند ہی گھنٹوں بعد یہ تازہ حملہ کیا گیا ہے۔

یہ دھماکے سانحۂ سامرہ کے بعد بغداد شہر میں لگائے جانے والے کرفیو کے اٹھائے جانے کے چوبیس گھنٹے بعد ہی ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ جانی نقصان ایک پٹرول پمپ پر ہونے والے خود کش دھماکے میں ہوا جس میں بیس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ بغداد کے مرکزی کرادہ ڈسٹرکٹ میں ہونے والے دھماکے میں چار افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوئے۔ دیگر دو دھماکے شہر کے مشرقی حصے میں ایک بازار میں اور ایک ڈاکخانے کے باہر ہوئے جن میں چھ افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوئے۔

عراق میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 103 ہوگئی ہے

سانحۂ سامرہ کے بعد سے عراق میں اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم ایک سو پینسٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت سنّی عرب تھے۔

ادھر جنوبی عراق کے شہر امارہ کے مضافات میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے دو برطانوی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ برطانوی وزارتِ دفاع کی ترجمان کے مطابق زخمی فوجی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور اس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

ان دو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد عراق آپریشن میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد 103 ہوگئی ہے۔

عراق میں جاری تشدد کے حوالے سے امریکی صدر بش نے کہا ہے کہ عراق کے شہریوں کو افراتفری اور اتحاد میں سے کسی ایک کے انتخاب کا سامناہے اور انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ایک آزاد معاشرے کے خواہشمند ہیں یا پھر کسی ایسے معاشرے کے جس میں برے لوگ معصوم لوگوں کی جان لیتے ہیں۔

امریکی صدربش نے عراقی میں جاری تشدد کے حوالے سے سات عراقی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ان کے بقول تمام نے انہیں قومی اتحاد کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد