بغداد میں بندوق کا راج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے نمائندے جان پیس نے کہا ہے کہ بغداد کے مردہ خانے میں ہر ماہ سینکڑوں لاشیں ایسی لائی جاتی ہیں جن پر جسمانی تشدد کے نشانات پائے جاتے ہیں۔ جان پیس نے بی بی سی کو بتایا کہ پچہتر فیصد لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے جاتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں ہیں۔ انہوں نے عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو امن و اماں قائم رکھنے والے اداروں کی نااہلی اور ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جس کے پاس بندوق ہے اور جو ذرا سا منظم ہے وہ بغیر کسی سزا کے خوف کے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
جان پیس نے کہا کہ مردہ خانے کہ اہلکاروں کو مسلح گروپوں کی طرف سے اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ انہوں نے اس رائے کی بھی تردید کی کہ سمارا میں دو مقبروں پر حملے کے بعد عراق میں شیعہ اور سنیوں کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں تشدد کے واقعات کا اندازہ بغداد کے مردہ خانے میں لائی جانے والی لاشوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہر ماہ سات سو اسی سے ایک ہزار ایک سو دس تک لاشیں مردہ خانے میں لائی گئی ہیں۔ پیس نے بتایا کہ مردہ خانے کہ سربراہ نے بھی مار دئیے جانے کے خوف سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ | اسی بارے میں بغداد میں تین دھماکے، 26 ہلاک01 March, 2006 | آس پاس ’صرف میں ہی جوابدہ ہوں: صدام01 March, 2006 | آس پاس ’حکومت سازی کا کام نہیں رُکے گا‘ 01 March, 2006 | آس پاس بغداد دھماکے، کم از کم پچاس ہلاک28 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||