’عراق: بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زادہ نے کہا ہے کہ امریکی حملے سے عراق میں مسائل کی بھڑوں کا چھتہ چھڑ گیا ہے۔ خلیل زاد کا کہنا ہے کہ فرقہ ورانہ تشدد خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اب امریکہ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ عراق میں اپنی موجودگی کو مضبوط فوجی موجودگی میں تبدیل کر دے یا وسیع تر علاقائی محاذ آرائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ دریں اثنا امریکی وزیرِدفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے اخبارات کے نامہ نگاروں پر الزام لگایا ہے کہ کہ وہ عراق میں جاری تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عراقیوں میں ایک وسیع تر حکومت کی تشکیل پر مفاہمت ہو گیی تو خانہ جنگی کا خطرہ اتنا نہیں ہے جتنا کہ اخبارات بیان کر رہے ہیں۔ رمسفیلڈ کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کا خطرہ عراق میں ہمیشہ سے ہی تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ مراوں اور مساجد پر حالیہ حملوں اور ان حملوں میں اموات کی تعداد کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں عراق میں امید کی کوئی کرن نہیں06 March, 2006 | آس پاس ’عراق جنگ،فیصلہ خدا نے کرایا‘04 March, 2006 | آس پاس عراقی: بم دھماکے میں سات ہلاک04 March, 2006 | آس پاس بغداد میں گاڑی چلانے پر پابندی03 March, 2006 | آس پاس بغداد میں بندوق کا راج02 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||