BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 08:35 GMT 13:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دستبردار ہونے کو تیار ہوں: جعفری
حکومت سازی پر اختلاف طے ہونا باقی ہیں
حکومت سازی پر اختلاف طے ہونا باقی ہیں
عراقی وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے نئی پارلیمان کے افتتاح کے بعد کہا ہے کہ اگر عراقی عوام چاہیں گے تو وہ وزیر اعظم کے عہدے سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔

پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کے بعد ابراہیم جعفری نے کہا کہ ’ اگر لوگوں نے کہا میں ایک طرف ہو جاؤں تو میں ایسا ہی کروں گا۔‘

ابراہیم جعفری کو شیعوں کی طرف سے نامزد کیا گیا تھا لیکن انہیں دیگر دھڑوں کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔ ان پر عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف موثر اقدامات نہ کرنے پر مخالفین کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔
عراق میں نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے تین ماہ بعد جمعرات کو ہورہاہے۔

عراق میں اعلی سیاسی عہدوں پر مختلف دھڑوں میں اختلاف کے باعث پارلیمان کا افتتاحی اجلاس تین ماہ تک مؤخر کیا جاتا رہا۔

کونسل کے اختیارات
اس مجوزہ کونسل کا نام اور اس کے اختیارات کا تعین نہیں ہو سکا ہے لیکن اگر اس معاملوں کو طے کر لیا گیا تو وزیر اعظم کے عہدے پر جاری بحث بھی ختم ہو سکتی ہے

اعلی سیاسی عہدوں پر اختلافات طے نہ ہونے کی وجہ سے اب حکومت سازی کا کام تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

عراقی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ایک ایسے وقت منعقد کیا جا رہا جب ملک میں قرقہ وارانہ تشدد بڑھ رہا ہے اور ملک میں خانہ جنگی شروع ہونے کا اندیشہ ہے۔

عراقیوں کو ملک میں نئی حکومت کی تشکیل میں ابھی تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔

گو کہ نئی حکومت کی تشکیل میں ابھی بہت سے مرحلے اور رکاوٹیں طے کی جانی باقی ہیں۔ خاص طور پر وزیر اعظم کے کلیدی عہدے پر شیعہ فرقے کے نمائندے ابراھیم جعفری کی نامزدگی پر اختلاف برقرار ہیں۔

ابراھیم جعفری کی نامزدگی سے باقی تمام دھڑے متفق نہیں ہیں اور ابراھیم جعفری ان کے بغیر حکومت نہیں بناسکتے۔

افتتاحی اجلاس میں پارلیمان کے سپیکر کے منتخب کیئے جانے کا بھی امکان نہیں ہے کیونکہ سپیکر کا عہدہ بھی حکومت سازی میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور سیاسی سودے بازی کا حصہ ہے۔

افتتاحی اجلاس میں صرف نو منتخب ارکان کی حلف برداری کی تقریب ہی ہونا ممکن ہے۔ افتتاحی تقریب کے بعد پارلیمان کا اجلاس غیر معینہ مدت تک چلنے کا امکان ہے۔

مبصرین کے مطابق امریکی سفیر کے دباؤ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں سیاسی دھڑوں میں مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ ایک تجویز جس پر اصولی طور پر اتفاق رائے ہوا ہے وہ ایک لیڈرشپ کونسل کی تشکیل ہے۔

یہ مجوزہ لیڈرشپ کونسل صدر، وزیر اعظم، پارلیمان کے سپیکر، عدلیہ کے سربراہ اور سیاسی جماعتوں کے سربراہوں پر مشتمل ہو گئی۔

تاہم اس مجوزہ کونسل کا نام اور اس کے اختیارات کا تعین نہیں ہو سکا ہے لیکن اگر اس معاملوں کو طے کر لیا گیا تو وزیر اعظم کے عہدے پر جاری بحث بھی ختم ہو سکتی ہے۔

پارلیمان کا اجلاس
کیا نئی قیادت سیاسی استحکام قائم کرسکے گی؟
جریکوعرب اخبارت کا غصہ
’جریکو آپریشن امریکہ و برطانیہ کی سازش تھی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد