BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 March, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوام خانہ جنگی سے بچیں: صدام حسین
صدام حسین
صدام حسین کو دجیل میں ڈیڑھ سو شیعہ مسلمانوں کے قتل کے مقدمے کا سامنا ہے
سابق عراقی صدر صدام حسین نے عراقی عوام سے کہا ہے کہ ’وہ آپس میں جھگڑنا بند کریں اوراس کی بجائے اپنی توجہ حملہ آورں سے مزاحمت کی جانب مرکوز کریں۔‘

حملہ آوروں سے ان کی مراد عراق میں موجود اتحادی افواج سے تھا جن کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔

صدام حسین نے مقدمہ کی سماعت کے دوران اچانک کھڑے ہوکر تقریر شروع کر دی جس پرجج نے انہیں سیاسی تقریر بند کر دینے کا حکم دیا لیکن وہ بولتے چلے گئے۔

انہوں نے عراقیوں پر زور دیا کہ ’وہ خانہ جنگی سے بچیں ورنہ وہ خود کو اندھیرے میں اور خون کے دریاؤں میں گھرا پائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ سن کر تکلیف ہوئی کہ ’کچھ عناصرہماری عوام کو ایذٰ پہنچانے درپے ہیں ۔‘

انہوں نے سمارا میں شیعہ مسلمانوں کے مقدس مقام پرہونے والے دھماکے کے تناظر میں کہا کہ’ ان کے خیال میں عراق کی عظیم قوم کا اس دھماکے کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

جب جج نے انہیں کہا کہ وہ عدالت کے کٹہرے کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر مت استعمال کریں تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں اس ملک کا سربراہ ہوں۔‘

انہوں نے ملک میں ہونے والی دراندازی کی تعریف کی اور اسے امریکی حملے کے خلاف مزاحمت قرار دیا۔

جج نے کہا کہ ’آپ کو ایک تعزیری مقدمہ کا سامنا ہے اور آپ سیاسی تقریر بند کریں‘ جس کےبعد عدالت نےمقدمے کی سماعت بند کمرے میں شروع کردی گئی ۔

اس سے قبل عدالت نے صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان ابراہیم التکریتی کا بیان قلمبند کیا ہے۔

صدام حسین کے سوتیلے بھائی
صدام حسین کے سوتیلے بھائی ابراہیم التکریتی

مسٹر التکریتی صدام دور میں عراق کے انٹیلیجنس چیف رہ چکے ہیں انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انیس سو بیاسی میں صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے الزام میں زیر حراست دجیل کے باسیوں سے انہوں نےپوچھ گچھ بھی نہیں کی تھی۔

سابق عراقی صدر صدام حسین ،ان کے سوتیلے بھائی اور دیگر چھ افراد کو دجیل میں ایک سو پچاس شیعہ مسلمانوں کے قتل کے مقدمہ کا سامنا ہے۔

مسڑ تکریتی نے کہا کہ انہوں نے سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو سختی سے کہا تھا کہ وہ بلا جواز گرفتاریاں نہ کریں اور ان کے بقول انہوں نے کئی زیر حراست افراد کو رہا بھی کرایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میں نے ان کے ہاتھ کھلوائے اور انہیں جانے دیا۔‘

مسٹر تکریتی نے کہا کہ انہو ں نے صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے فوری بعد دجیل کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد وہ کبھی وہاں نہیں گئے۔

انہوں نےیہ بھی کہا کہ صدام حسین پر قاتلانہ حملے کے معاملے کو کوئی دوسرا حکومتی ادارہ دیکھ رہا تھا اور یہ ان کے ذمہ نہیں تھا۔

اس سے پہلے دجیل کے چند لوگ یہ بیان دے چکے ہیں کہ جن لوگوں کوصدام پر قاتلانہ حملے کے بعد پکڑا گیا تھا انہیں مسٹر تکریتی نے خود ذاتی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

دوران سماعت ابراہیم التکریتی کو ایک ایسی دستاویز دکھائی جس میں ان انٹیلجنس افسروں کے انعام کی بات کی گئی تھی جنہوں نے دجیل میں آپریشن کیا تھا اس دستاویز پر بظاہر ان کے دستخط تھے۔ تاہم انہوں نے ان دستخطوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ دستاویز جعلی ہے۔

مسڑ تکریتی نے دجیل کے مکینوں پر مقدمہ چلائے جانے کی حمایت کی اور کہا کہ انہوں نے صدام حسین پر ایسے موقع پر قاتلانہ حملہ کیا جب ملک ایران سے جنگ میں مصروف تھا۔

صدام حسین اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو اس مقدمہ میں جرم وار ثابت ہونے کی صورت میں موت کی سزا تک ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد