سامرہ میں امریکہ کا بڑا فوجی آپریشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر سامرہ پر ایک بڑا فضائی آپریشن جاری ہے جس میں 50 سے زائد طیارے اور 1500 عراقی اور امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد شورشیوں کے خلاف کارروائی ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ یہ آپریشن سامرہ کے نواح میں جاری ہے اور اتنا بڑا فضائی آپریشن 2003 کے بعد سے نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ بغداد کے شمال میں ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ال عسکری مزار پر ہونے والے بم حملے کے بعد سے عراق میں بڑے پیمانے پر فرقہ ورانہ تصادم جاری ہے۔ سامرہ میں جمعرات سے شروع ہونے والے اس فوجی آپریشن کے بارے میں اب تک آزادانہ ذرائع سے اطلاعات نہیں مل سکی ہیں۔ امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مطلوبہ علاقوں کی تلاشی کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔ آپریشن کے پہلے دن کے اختتام پر عراقی و امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاصی تعداد میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی وردیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ’یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکی فوج کو سامرہ میں شورشیوں کے ٹھکانے ہونے کا یقین ہے۔‘ ال عسکری مزار پر دھماکے کے بعد سے سامرہ میں فرقہ ورانہ تصادم کے واقعات تیز تر ہوگئے تھے اور امریکہ کو یقین ہے کہ مزار پر حملہ فرقہ ورانہ فسادات کا باعث ہے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے صحافی ایڈم بروک کا کہنا ہے کہ طاقت کے اس بڑے مظاہرے کے پیچھے یہ توقع ہے کہ اس کے ذریعے تشدد کے مسلسل جاری ان واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی جو خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی محکۂ دفاع پیٹاگون یہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ عراقی اور امریکی افواج فرقہ ورانہ حملوں کے خلاف مشترکہ جوابی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ال عسکری روضے پر حملے کے بعد سے سامرہ فرقہ وارانہ تشدد کا گڑھ بنتا جارہا تھا اور امریکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی جڑ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔ عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے سی این این ٹیلی ویژن کو بتایا کہ سامرہ میں فوجی آپریشن شدت پسندوں کو اس علاقے میں پیر جمانے سے روکنے کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فوجی آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں فلوجہ پر بمباری، سمارا میں کارروائی02 October, 2004 | آس پاس سمارا کے تاریخی مینار کو نقصان01 April, 2005 | آس پاس عراق: فضائی حملے میں درجنوں ہلاک14 August, 2004 | آس پاس شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں25 February, 2006 | آس پاس بغداد: 960 ہلاک، تین روزہ سوگ 31 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||