BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 March, 2006, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سامرہ میں امریکہ کا بڑا فوجی آپریشن
امریکی فوج کے مطابق 1500 عراقی اور امریکی فوجی اس آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں
عراقی شہر سامرہ پر ایک بڑا فضائی آپریشن جاری ہے جس میں 50 سے زائد طیارے اور 1500 عراقی اور امریکی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد شورشیوں کے خلاف کارروائی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ یہ آپریشن سامرہ کے نواح میں جاری ہے اور اتنا بڑا فضائی آپریشن 2003 کے بعد سے نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ بغداد کے شمال میں ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع ال عسکری مزار پر ہونے والے بم حملے کے بعد سے عراق میں بڑے پیمانے پر فرقہ ورانہ تصادم جاری ہے۔

سامرہ میں جمعرات سے شروع ہونے والے اس فوجی آپریشن کے بارے میں اب تک آزادانہ ذرائع سے اطلاعات نہیں مل سکی ہیں۔ امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ مطلوبہ علاقوں کی تلاشی کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔

آپریشن کے پہلے دن کے اختتام پر عراقی و امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاصی تعداد میں ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی وردیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ ’یہ بات بالکل واضح ہے کہ امریکی فوج کو سامرہ میں شورشیوں کے ٹھکانے ہونے کا یقین ہے۔‘ ال عسکری مزار پر دھماکے کے بعد سے سامرہ میں فرقہ ورانہ تصادم کے واقعات تیز تر ہوگئے تھے اور امریکہ کو یقین ہے کہ مزار پر حملہ فرقہ ورانہ فسادات کا باعث ہے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے صحافی ایڈم بروک کا کہنا ہے کہ طاقت کے اس بڑے مظاہرے کے پیچھے یہ توقع ہے کہ اس کے ذریعے تشدد کے مسلسل جاری ان واقعات کو روکنے میں مدد ملے گی جو خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی محکۂ دفاع پیٹاگون یہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ عراقی اور امریکی افواج فرقہ ورانہ حملوں کے خلاف مشترکہ جوابی کارروائی کر سکتے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ال عسکری روضے پر حملے کے بعد سے سامرہ فرقہ وارانہ تشدد کا گڑھ بنتا جارہا تھا اور امریکہ یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد کی جڑ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے۔

عراق کے عبوری وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے سی این این ٹیلی ویژن کو بتایا کہ سامرہ میں فوجی آپریشن شدت پسندوں کو اس علاقے میں پیر جمانے سے روکنے کے لیے ضروری ہوگیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ فوجی آپریشن کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔

کیا سامرہ دھماکے خانہ جنگی کو ہوا دیں گے؟عراق میں کیا ہوگا؟
کیا سامرہ دھماکے خانہ جنگی کو ہوا دیں گے؟
سماراسمارا کا مینار
سمارا میں ایک ہزار سال قدیم مینار کو نقصان
مسجدیں نشانے پر
عراق:شیعہ۔سنی کشیدگی اور مسجدوں پرحملے
کرنل ٹم کولنزحکمت عملی کا فقدان
برطانوی کرنل کی اتحادی فوج پر سخت تنقید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد